مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 257
257 تشریف نہیں لا ئیں گے۔یہ تو ممکن نہیں کہ حضرت عیسی“ نعوذ باللہ غلط بیانی سے کام لیں۔پس دوسری بات ہی درست ہے کہ وہ واپس دنیا میں تشریف نہیں لائیں گے۔و هذا هو المراد۔دیگر آیات:۔ان مندرجہ بالا آیات کے علاوہ اس مسئلہ پر روشنی ڈالنے والی اور بھی بہت سی آیات ہیں جن میں سے چند یہ ہیں :۔ا وَاللهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ يَتَوَفَّكُمْ وَمِنْكُمْ مَنْ تُرَدُّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْ لَا يَعْلَمُ بَعْدَ عِلْمٍ شَيْئًا (النحل : ٧١) ترجمہ: اللہ وہ ذات ہے جس نے تم کو پیدا کیا پھر تم کو وفات دیتا ہے اور بعض تم میں رذیل ترین عمر (انتہائی بڑھاپے) کی طرف لوٹائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ جاننے کے بعد نہ جاننے والا بن جاتا ہے۔ہمارے دوست بتائیں کہ کیا حضرت عیسی کے اس قانون سے مستثنیٰ ہونے کا کوئی ثبوت ان کے پاس ہے؟ ہرگز نہیں۔٢ - وَمِنْكُمْ مِّنْ يَتَوَفَّى وَمِنْكُمْ مَّنْ يُرَدُّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلَا يَعْلَمَ مِنْ بَعْدِ عِلْمٍ سینا (الحج: 1) ترجمہ اوپر گزر چکا ہے۔٣ وَمَنْ تُعَمِّرُهُ نُنَكِّسُهُ فِي الْخَلَقِ (يس: ٢٩) ترجمہ:۔جس کو ہم لمبی عمر دیتے ہیں ہم پھر اس کو خلقت میں الٹاتے ہیں یعنی وہ جوانی کے بعد بڑھاپے سے ہوتا ہوانا دان بن جاتا ہے۔کیا حضرت عیسی" پر یہ قانون حاوی نہیں؟ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ ضَعْفِ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ضَعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ ضَعْفًا وَ شَيْبَةَ (الروم: ۵۵) ترجمہ: اللہ وہ ذات ہے جس نے تم کو ضعف سے پیدا کیا اور پھر کچھ عرصہ کے لئے قوت عطا فرمائی اور پھر قوت کے بعد ضعف اور بڑھاپا بنایا۔بقول مخالفین احمدیت بھی حضرت عیسی نے آسمان پر جانے سے پیشتر قوت پائی تھی۔اب اتنے عرصہ کے بعد ضرور ہے کہ آپ دوبارہ ضعف کا شکار ہو چکے ہوں اور دنیا میں آ کر بجائے خدمت دین کرنے کے اپنی ہی خدمت کرائیں۔ه وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا إِنَّهُمْ لَيَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَيَمْشُونَ فِي