مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 255
255 سلامتی کا کہاں ذکر ہے؟ وہ تو زیادہ اظہار امتنان کا موقعہ تھا۔ان مواقع مذکورہ میں تو سب نبی مور دسلامتی بنتے ہیں ، آپ کے شریک ہیں، لیکن دوا ہم اور عظیم الشان واقعات کی حضرت مسیح کے ساتھ خصوصیت ہے، یعنی آسمان پر جانا اور آسمان سے واپس آنا، یہ سلامتی کے ساتھ ذکر کرنے کے زیادہ قابل تھے۔خصوصاً جب کہ یہ مسیح کا کلام ان کے اختیار سے نہیں بلکہ وحی الہی کے ماتحت ہے۔نویں دلیل:۔آیت وَلَنْ نُؤْمِنَ لِرَقِيكَ حَتَّى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتُبًا نَّقْرَؤُهُ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَّسُولًا (بنی اسرائیل: ۹۴) کفار نے آنحضرت سے جو نشانات طلب کیے ان میں سے ایک یہ بھی نشان انہوں نے طلب کیا اور سب سے اس کو آخر میں رکھا اور اپنے ایمانی فیصلہ کو اس پر ٹھہرایا کہ آپ آسمان پر جائیں اور وہاں سے کتاب لائیں جس کو ہم پڑھ کر آپ پر ایمان لائیں۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں یہ حکم دیا کہ کہو میرا رب پاک ہے۔میں بندہ رسول ہوں۔یعنی اللہ کی قدرت میں تو کسی قسم کا نقص نہیں، لیکن رسول کو آسمان پر لے جانا سنت اللہ نہیں۔جائے غور ہے کہ کفار کا یہ کہنا کہ تو آسمان پر چڑھ جاوے اور کتاب لا دے تب ہم ایمان لائیں گے، تو اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت کو آسمان پر نہ اٹھالیا تا کہ سب کفار ایمان لے آویں، بلکہ یہ فرمایا کہ ایسا نہ ہو گا۔جس کی وجہ یہ ہے کہ تو ایک بشر رسول ہے اور بشر رسول آسمان پر نہیں جایا کرتے۔بھائیو! غور کرو جب حضرت عیسی بھی بشر رسول ہیں تو وہ کیونکر آسمان پر جاسکتے ہیں۔غیرت کی جا ہے عیسی زندہ ہو آسماں پر مدفون ہو زمیں میں شاہ جہاں ہمارا دسویں دلیل: آیت وَمَا جَعَلْنَا لِبَر مِنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ أَفَأَبِنْ مِثْ فَهُمُ الْخَلِدُونَ (الانبياء: ۳۵) ترجمہ:۔اور ہم نے تجھ سے پہلے (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کسی انسان کو غیر طبعی زندگی نہیں دی۔کیا یہ ہوسکتا ہے کہ تو تو فوت ہو جائے اور وہ زندہ رہیں۔استدلال :۔مسلمانو! دیکھو اللہ تعالیٰ کس قدر غیرت سے فرماتا ہے کہ أَفَأَبِنْ مِتَّ فَهُمُ الْخَلِدُونَ لیکن ایک تم ہو کہ میسی کو تو زندہ مانتے ہو مگر اس سید المعصومین کو فوت شدہ تسلیم کرتے ہو۔استدلال صاف ہے، زیادہ وضاحت کی ضرورت نہیں۔اللہ تعالیٰ نے صاف فرما دیا کہ یہ ہو نہیں سکتا کہ تو تو جوانفع للناس