مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 227
227 اس روایت سے ظاہر ہے کہ حضرت امام حسین کے نزدیک بھی آپ کے قاتلین بھی وہی تھے جنہوں نے کوفہ سے بیشمار خطوط بھیج کر اور بیعت مسلم کر کے بلایا تھا۔۴۔ناسخ التواریخ ( مکمل حوالہ اگلے صفحہ پر درج ہے ) میں ہے کہ امام حسین نے لشکر یزید کے قاصد قرہ بن قیس کو مخاطب کر کے فرمایا: تمہارے شہر کے لوگوں نے نامہ ہائے بیشمار مجھے لکھے ، بہت مبالغہ اور اصرار کر کے مجھے بلایا۔اگر میرا آنا اب منظور نہیں ہے تو مجھے واپس جانے دو۔“ (ناسخ التواریخ جلد ۶ کتاب ۲ صفحہ ۱۷۵) ۵۔جب حضرت امام حسین دشت کربلا میں خیمہ زن تھے ، ایک عراقی مکہ کو جارہا تھا۔دیکھا کہ خیمہ کے باہر کرسی پر بیٹھ کر خطوط کا مطالعہ فرما رہے تھے۔جب اس نے وجہ بے کسی و بے وطنی کی دریافت کی تو امام نے فرمایا : بنوامیه مراسیم متل دادند و مردم کوفه مرا دعوت کردند، اینک مکاتیب ایشاں است ، حالانکه کشنده من ایشانند (ناسخ التواریخ جلد ۶ کتاب ۲ صفحه ۱۵۹) کہ بنوامیہ نے مجھے قتل کی دھمکی دی اور کوفہ والوں نے مجھے بلایا، یہ سب خطوط انہی کے ہیں اور حالانکہ میرے قاتل یہی لوگ ہیں۔نوٹ:۔اس روایت میں تو خود حضرت امام حسین نے اپنے قتل اور واقعات کربلا کی تمام ذمہ داری یزید سے ہٹا کر اہل کوفہ پر رکھی ہے۔۶۔ناسخ التواریخ جلد ۶ کتاب نمبر ۲ صفحہ ۱۶۶ میں بحوالہ کتاب نورالعین مرقوم ہے : حضرت سکینہ" دختر حضرت امام حسین سے روایت ہے کہ میں اپنے خیمہ میں تھی ، نا گاہ رونے کی آواز سنائی دی۔میں چپکے سے اپنے پدر بزرگوار کے پاس چلی گئی ، وہ رو ر ہے تھے اور اپنے اصحاب سے فرما رہے تھے۔”اے جماعت ! جس وقت تم میرے ساتھ باہر نکلے تم نے ایسا جانا کہ میں ایسی قوم میں جاتا ہوں جس نے دل و زبان سے میری بیعت کر لی ہے۔اب وہ خیال دگر گوں ہو گیا ہے۔شیطان نے ان کو فریفتہ کر لیا، یہاں تک کہ خدا کو بھول گئے۔ان کی ہمت اب اس پر لگی ہے کہ مجھ کو قتل کریں اور میرے مجاہدین کو قتل کریں۔“