مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 219
219 پاس چلا آؤں گا۔“ (جلاء العیون ترجمہ اردو صفحه ۴۳ جلد ۲ باب ۵ فصل نمبر ۱۳ و ناسخ التواریخ جلد ۶ کتاب دوم صفحه ۱۳۱) امام مسلم کا کوفہ پہنچنا امام مسلم کی اہل کوفہ میں سے ۸۰ ہزار آدمیوں نے بیعت کی۔بروایت ابو شخصف دیکھوناسخ التواریخ جلد ۶ کتاب ۲ صفحه ۱۳۳) بروایت ابو مخنف ہشتاد ہزارکس با مسلم بیعت کرڈ“۔امام مسلم کی شہادت اور وصیت شیعان اہل کوفہ نے امام مسلم کے ساتھ کس طرح غداری کر کے ان کو اور ان کے دونوں بچوں کو شہید کیا۔بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔امام مسلم نے بوقت شہادت عمر بن سعد کو مخاطب کر کے مندرجہ ذیل وصیت کی :۔”میری وصیت اول یہ ہے کہ اس شہر میں سات سو درہم کا میں قرض دار ہوں لازم ہے کہ شمشیر وزره میری فروخت کر کے میرا قرض ادا کر دے۔دوسری وصیت یہ ہے کہ جب مجھے قتل کریں تو ابن زیاد سے اجازت لے کر مجھے دفن کر دینا۔تیسری وصیت یہ ہے کہ امام حسین کو اس مضمون کا خط لکھ کر کہ کوفیوں نے مجھ سے بے وفائی کی اور آپ کے پسرعم کی نصرت و یاوری نہ کی۔ان کے وعدوں پر اعتماد نہیں ہے آپ اس طرف نہ آئیں۔“ (جلاء العیون جلد ۲ باب ۵ فصل نمبر ۱۳ صفحه ۴۴۲ و ۴۴۳ مترجم اردو) ناسخ التواریخ جلد ۶ کتاب ۲ صفحہ ۱۴۲ میں ہے: وَالثَّالِثَةُ أَنْ تَكْتُبُوا إِلَى سَيّدِ الْحُسَيْنِ أَنْ يَرْجِعَ عَنْكُمْ فَقَدْ بَلَغَنِي إِنَّهُ خَرَجَ بِنِسَاءِ هِ وَ اَوْلَادِهِ فَيُصِيبُهُ مَا أَصَابَنِى ثُمَّ يَقُولُ اِرْجِعُ فِدَاكَ أَبِي وَ أُمِّي بِأَهْلِ بَيْتِكَ فَلَا يَغْرُرُكَ أَهْلُ الْكُوفَةِ فَإِنَّهُمْ أَصْحَابُ اَبِيْكَ الَّذِي تَمَنَّى فِرَاقُهُمُ بِالْمَوْتِ - کہ میری تیسری وصیت یہ ہے کہ تم میرے آقا حضرت امام حسین کولکھنا کہ وہ تمہارے پاس نہ آئیں کیونکہ میں نے سنا ہے کہ وہ مع عورتوں اور بچوں کے تشریف لا رہے ہیں۔ایسا نہ ہو کہ ان کو بھی وہی مصیبت پہنچے جو مجھے پہنچی ہے۔پھر انہیں لکھنا کہ مسلم کہتا ہے کہ اے امام حسین! ( میرے ماں باپ آپ پر