مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 209 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 209

209 ۵۔حضرت علی نے مکہ کی زندگی میں دل میں اسلام رکھا اور ظاہر میں بھی اسلام رکھا۔اگر تقیہ جائز ہوتا تو ظاہر میں بت پرستی کرتے کیونکہ وہاں زیادہ خطرہ تھا۔۔حضرت علیؓ کو جب مکہ میں کافروں کی طرف سے تکلیف پہنچی تو انہوں نے اپنے ایمان کو بچانے کے لئے وہاں سے ہجرت کر لی۔اگر مدینہ میں بھی کسی وقت ان کو اپنے ایمان کے بچانے کی ضرورت پڑتی تو وہ ضرور وہاں سے ہجرت کرتے مگر انہوں نے وفات حضرت عثمان تک وہاں سے ہجرت نہ کی۔اس لئے معلوم ہوا کہ ان کو وہاں ایمان بچانے کی ضرورت نہ پڑی۔اگر کہو کہ انہوں نے کوفہ میں ہجرت کی تھی تو وہ اپنی خلافت کے زمانہ میں کی تھی جب کہ ڈر نہیں رہا تھا۔ے۔جبر کی صورت میں ایمان چھپانا جائز ہے یا فرض؟ اگر کہو کہ جائز ہے تو پھر وہ افضل ہے یا اس کا غیر افضل ہے؟ اور اگر فرض ہے تو اس کی عدم تعمیل یقینا گناہ کا موجب ہوگی اور پھر اگر فرض ہے تو پھر حضرت امام حسین نے یزید کی بیعت کیوں نہ کی؟ پس معلوم ہوا کہ تقیہ فرض نہیں۔اور اگر جائز ہے تو وہ اولی ہے یا اس کا غیر اولیٰ ہے۔قرآن مجید تو اِنَّ رَبَّكَ مِنْ بَعْدِهَا لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ (النحل : ) کہہ کر جبر کی وجہ سے تقیہ کرنے والوں کو گناہگار قرار دیتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ تقیہ کا غیر اولیٰ ہے اور امام کو یہی سزاوار ہے۔کہ وہ اولی پر عامل ہو۔۔حضرت عمار بن یاسر کو اگر تقیہ کی مثال میں پیش کیا جاسکتا ہے تو ان کے ماں باپ کو شیعہ کیا سمجھتے ہیں۔یقیناً ان کو نیک اور شہید جانتے ہیں۔پس ایک بات جو کسی کی غلطی ہو اس کو ائمہ کے حق میں تجویز کرنے سے یہ بہتر ہے کہ ائمہ کے حق میں اولیٰ بات تجویز کرے۔۔جس طرح اسلام میں کمزوروں کی رعایت کے لئے ڈر کے مارے ایمان چھپانے کو کفر قرار نہیں دیا ہے اسی طرح کامل مومنوں اور نبیوں کے لئے شجاعت اور بے خوفی کو لازم قرار دیا ہے جیسا کہ فرمایا۔لَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لايم (المائدة : (۵۵) لَا يَخْشَونَ أَحَدًا إِلَّا الله (الاحزاب : ٤٠) وَ هُمُ مِنْ خَشْيَتِهِ مُشْفِقُونَ (الانبياء : ٢٩) لَا تَخَفْ اِنّى لَا يَخَافُ لَدَى الْمُرْسَلُونَ (النمل: (۱) پس عجیب بات یہ ہے کہ جو بات کمزوروں کے لئے جائز ہے وہ حضرت علیؓ میں پائی جائے اور جو بات کامل مومنوں کے لئے لازم تھی وہ آپ میں مفقود ہو؟ ١٠۔وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ (النور: ۵۶)