مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 206
206 کہنے کا نام ” تقیہ رکھتے ہیں۔جواب نمبر ۲:۔اگر عقائد کو اس طریق پر چھپانے کی اجازت مل جائے تو کسی نبی کی جماعت بھی ترقی نہ کر سکتی۔اگر اس رنگ میں تقیہ جائز ہوتا تو حضرت علی، حضرت ابوبکر ، حضرت بلال و غیر هم رضوان الله علیہم اجمعین صحابہ کرام جن کو محض اسلام لانے کی وجہ سے سخت تکالیف اور مصائب کا مقابلہ کرنا پڑ ضرور اس سے فائدہ اٹھاتے اور اگر وہ ایسا کرتے تو پھر مسلمان کون ہوتا ؟ پس ان بزرگوں کا انتہائی مصیبتیں اٹھا کر بھی انکار نہ کرنا صاف طور پر ثابت کرتا ہے کہ ان کے نزدیک عقائد کے متعلق اکراہ ممکن نہ تھا اور یہ کہ ڈر کر عقائد کو تبدیل کرنا إِلَّا مَنْ أُخْرِہ کی استثناء میں نہیں آتا۔جواب نمبر ۳:۔تقیہ کے متعلق ایک نہایت ضروری سوال ہے اور وہ یہ کہ تقیہ کرنا اچھا ہے یا بُرا اگر کہو برا تو (۱) یہ عقائد شیعہ کے خلاف (۲) حضرت علیؓ نے کیوں کیا ( بقول شما ) اگر کہو اچھا تو حضرت امام حسین نے یزید کے بالمقابل کیوں نہ کیا؟ جواب نمبر ۴ : اللہ تعالیٰ نے جو کراہ اور جبر کے نتیجہ میں استثناء بیان فرمائی ہے جس کی تفصیل جواب نمبرا میں بیان ہو چکی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس کو بھی مستحسن قرار نہیں دیا بلکہ اسے بھی ایک قسم کا گناہ ہی قرار دیا ہے جیسا کہ اس کے آگے ہی فرمایا ہے۔اِنَّ رَبَّكَ مِنْ بَعْدِهَا لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ (النحل : ١) کم پھر اس اکراہ کے بعد تیرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔پس معلوم ہوا کہ جو بعض اعمال اور افعال کے متعلق جبر اور کراہ کے بارے میں استثناء ہوا ہے اللہ تعالیٰ نے اس کو بخشش کے ماتحت رکھا ہے پس صاف طور پر ثابت ہے کہ یہ اکراہ اور جبر کی حالت اعلیٰ درجہ کے مومنوں کے متعلق نہیں بلکہ عوام کے کمزور ایمان والوں کے متعلق ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء اور خواص مقربین کی ملائکہ کے ذریعہ حفاظت کرتا ہے اس لئے کفار کو ان پر اس رنگ میں تصرف حاصل ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ جبراً از راه اکراہ اعمال خلاف شریعت کا ارتکاب کر سکیں۔پس حضرت علیؓ جیسے عظیم الشان انسان کے متعلق یہ کہنا کہ انہوں نے اپنے مخالفین سے ڈر کر بیعت کر لی اور اپنے عقائد کے خلاف عقائد حاضر کئے اور نعوذ باللہ جھوٹے ، خائن اور غاصب خلفاء پر ایمان لے آئے ، انتہائی طور پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی بہتک ہے۔جواب نمبر ۵:۔اگر فی الواقعہ حضرت علیؓ نے تقیہ کیا تھا ( بقول شما ) تو بعد میں ان کو بطور احتجاج ہجرت