مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 205 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 205

205 کفر کی دوسری قسم اعمال کے متعلق ہے اور اس میں ”جبر اور اکراہ کئی صورتوں میں ممکن ہے۔یعنی ہو سکتا ہے کہ کسی شخص سے جبر البعض ایسے اعمال سرزد کرائے جائیں جن میں اس کی قوت فیصلہ کا ایک ذرہ بھی دخل نہ ہو۔مثلاً اگر زید وبکر اور عمر پکڑ کر خالد کو جبر اشراب پلانا چاہیں یا اور کسی نا جائز فعل کا ارتکاب کرانا چاہیں تو گو خالد اس سے بچنے کے لئے اپنی جان تک قربان کرنے کے لئے تیار ہو پھر بھی ممکن ہے کہ اسے لٹا کر جبر شراب اس کے منہ میں ڈال دی جائے۔اب اس طریق پر شراب پینے میں خالد کے ارادہ اور اس کی قوت فیصلہ کا ذرہ بھی دخل نہیں۔یوں تو شراب پینا یا زنا کرنا ایمان کے خلاف ہیں مگر مندرجہ بالا طریق پر ان کا ارتکاب کرایا جانا یقیناً إِلَّا مَنْ اُكْرِہ کے تحت آتا ہے کیونکہ وہ با وجود اپنے کامل طور پر ختم اور غیر متزلزل ارادہ کے اس سے بچ نہ سکا لیکن کسی شخص کی زبان کو کوئی دوسرا شخص زبر دستی پکڑ کو چلا نہیں سکتا کہ وہ اپنے عقائد کے خلاف کہے مگر اعمال کا صدور جیسا کہ اوپر بیان ہوا ہے بعض اوقات جبراً کرایا جاسکتا ہے۔پس آیت مندرجہ بالا میں لفظ ایمان کفر کے بالمقابل ہے، اور کفر کے معنی زبانی انکار کے نہیں بلکہ اعمال کے رنگ میں بھی نافرمانی کے ہیں۔جیسا کہ لغت میں ہے:۔اكْفَرَ لَزِمَ الْكُفْرَ وَ الْعِصْيَانَ بَعْدَ الطَّاعَةِ وَالْإِيمَانِ “ (المنجز ير لفظ کفر ) اس نے کفر کیا۔یعنی کفر اور عصیان سے وابستہ ہوا فرمانبرداری اور ایمان کے بعد۔گو یا لفظ کفر میں ہر قسم کا عصیان داخل ہے۔ہم اوپر ثابت کر چکے ہیں کہ عقائد کے متعلق اکراہ “ کیا ہی نہیں جاسکتا جو عقائد کے تبدیل کرانے کے لئے کسی شخص پر کیا جائے کیونکہ ایسی حالت میں دو مشکل راہوں میں سے ایک کو دوسری پر مقدم کرنے کا فیصلہ خود اس شخص کے ہاتھ میں ہوتا ہے جس پر جبر کیا جائے۔اور یہ ظاہر ہے کہ ”ایمان“ کے مقابلہ میں ”جان کی کوئی قیمت نہیں۔پس جو شخص ”جان“ کے خوف سے ”ایمان“ کو چھوڑنے کا فیصلہ کرتا ہے یعنی بجائے دین کو دنیا پر مقدم کرنے کے دنیا کو دین پر مقدم کرتا ہے۔وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس نے یہ فیصلہ اکراہ کے ماتحت کیا ہے کیونکہ اکراہ تو اس صورت میں ہوتا جب وہ یہ کہ سکتا کہ یہ جو کچھ ہوا میرے فیصلہ سے نہیں ہوا۔ہاں بعض اعمال ایسے رنگ میں دوسرے شخص سے جبر سر ز د کرائے جا سکتے ہیں جن میں اس کے اپنے فیصلہ کا دخل نہ ہو۔جیسا کہ اوپر مثال دی گئی ہے۔پس شیعوں کا تقیہ اس آیت سے ہر گز نہیں نکل سکتا کیونکہ وہ اعمال کے متعلق اس رنگ میں استثناء نہیں مانتے جس رنگ میں اوپر بیان ہوا بلکہ وہ عقائد کو کسی کے خوف سے چھپانے اور اس کے خلاف