مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 202 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 202

202 وصیت حضرت فاطمہ کو فدک پر تصرف نہ دیا۔حضرت فاطمہ سخت ناراض ہوئیں حالانکہ آنحضرت نے فرمایا ہے۔مَنْ أَغْضَبَهَا أَغْضَبَنِى (بخاری کتاب فضائل اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم باب مناقب فاطمه جزہ مصری صفحہ ۳۶) یعنی جس نے فاطمہ کو ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔جواب:۔شیعہ لوگ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ صرف حضرت ابوبکر نے اس وصیت اور ہبہ نامہ کو جاری نہ فرمایا بلکہ حضرت علیؓ نے بھی جاری نہ فرمایا تھا۔ہم دریافت کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق نے تو اس واسطے اس کا اجرا نہ فرمایا کہ ان کو یہ حدیث معلوم تھی کہ آنحضرت نے فرمایا جو ہم چھوڑیں گے وہ صدقہ ہوگا لیکن پھر حضرت علی نے اپنی چند روزہ خلافت میں کیوں اس کو جاری نہ کیا ؟ پس معلوم ہوا کہ حضرت علی کو بھی یہ روایت پہنچ چکی تھی اور وہ اس کو درست تسلیم کرتے تھے اسی واسطے آپ نے بھی اس کو ویسے ہی رکھا جیسے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابوبکر، عمر، عثمان رضی اللہ عنہم کے عہد میں چلی آتی تھی۔باقی ناراضگی کے متعلق یہ ہے کہ یہ الفاظ آپ نے اس وقت فرمائے تھے کہ جب حضرت علیؓ نے ابو جہل کی لڑکی سے شادی کرنے کا ارادہ کیا اور حضرت فاطمہ حضور کے پاس روتی ہوئی آئیں۔آپ نے اس وقت کھڑے ہو کر خطبہ پڑھا۔جس میں آپ نے فرمایا :۔أَلَا إِنَّ فَاطِمَةَ بِضْعَةُ مِنِّي يُؤذِينِي مَا اَذَا هَا وَيُرِيبُنِي مَا أَرَابَهَا فَمَنْ أَغْضَبَهَا أَغْضَبَنِي ( بخاری کتاب النکاح باب ذَب الرجل ابنته فى الغيرة والا نصاف جزے مصری صفحه اسم ومسلم کتاب فضائل الصحابه باب من فضائل فاطمه رضى الله عنها - ابوداؤد کتاب النکاح باب الغيرة - ترمذی ابواب المناقب باب ما جاء في فضل فاطمه رضی الله عنها ) یعنی فاطمہ میرا ایک ٹکڑا ہے اگر اسے تکلیف ہوئی تو مجھے بھی ہوئی۔پس جس نے اس کو ناراض کیا اس نے گویا مجھے بھی ناراض کیا۔حدیث میں آپ نے ماضی کا صیغہ استعمال کیا کہ جس نے فاطمہ کو ناراض کیا اس نے گویا مجھے ناراض کیا اور صاف ظاہر ہے کہ اس وقت سے پہلے صرف حضرت علیؓ کی وجہ سے حضرت فاطمہ کو تکلیف پہنچی تھی کہ جس کے باعث آنحضرت کو بھی تکلیف پہنچی اور آپ نے اس تکلیف کی شدت میں ایک خطبہ پڑھا جس میں پہلے مورد حضرت علی ہی ہیں ،حضرت ابو بکڑ سے اگر وہ ایک بات پر جو واقعہ میں حق تھی ناراض ہو گئیں تو آپ اس حدیث کے نیچے نہیں آسکتے کیونکہ یہ بعد کا واقعہ ہے اور آپ نے یہ قانون نہیں باندھا بلکہ ایک خاص واقعہ پر فرمایا تھا کہ فاطمہ کو جس نے تکلیف دی ہے