مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 192
192 الرَّاوِيُّ تَقُولُ هَكَذَا فَوَثَبَ الْإِمَامُ عَنْ مَكَانِهِ فَقَالَ نَعَمُ الصِّدِّيقُ فَمَنْ لَّمْ يَقُلْ لَهُ الصِّدِّيقُ فَلَا صَدَّقَ اللَّهُ قَوْلَهُ فِي الدُّنْيَا۔کہ امام جعفر سے پوچھا گیا کہ کیا تلوار کو سونا چڑھانا جائز ہے تو آپ نے فرمایا۔ہاں جائز ہے کیونکہ حضرت ابوبکر صدیق نے اپنی تلوار کو سونا چڑھایا تھا۔اس پر راوی نے متعجب ہو کر کہا کہ آپ ایسا ( یعنی ابو بکر صدیق کو کہتے ہیں ) تو امام اپنی جگہ سے اٹھ کر کہنے لگے ہاں وہ صدیق ہیں۔ہاں وہ صدیق ہیں اور جو ان کو صدیق نہ کہے خدا دنیا میں اس کی بات کو سچا نہیں کرے گا۔۱۰۔حضرت علی حضرت عثمان کو مخاطب کر کے کہتے ہیں: وَاللَّهِ مَا اَدْرِكْ مَا أَقُولُ لَكَ مَا أَعْرِفْ شَيْئاً تَجْهَلُهُ وَلَا أَدُلُّكَ عَلَى شَيْءٍ لَا تَعْرِفُهُ إِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نَعْلَمُ مَا سَبَقْنَاكَ إِلَى شَيْءٍ۔۔۔۔فَنُبَلِّغَكَهُ وَقَدْ رَأَيْتَ كَمَا رَأَيْنَا وَسَمِعْتَ كَمَا سَمِعْنَا وَ صَحِبُتَ رَسُولَ اللهِ كَمَا صَحِبُنَا وَمَا اِبْنُ أَبِي قَحَافَةَ وَلَا اِبْنُ الْخَطَّابِ أَوْلَى بِعَمَلِ الحَقِّ مِنْكَ وَ أَنْتَ اَقْرَبُ إِلى رَسُولِ اللهِ۔۔۔۔۔وَقَدْ نِلْتَ مِنْ صِهْرِهِ مَالَمْ يَنَالَا۔نہج البلاغه جز ثانی نمبر ۱۵۹ و من كلام له عليه السلام لما اجتمع الناس۔۔۔۔۔۔۔بخدا میں نہیں جانتا کہ میں آپ کے سامنے کیا بیان کروں۔مجھے کوئی ایسی نئی بات معلوم نہیں جو آپ نہ جانتے ہوں اور میں آپ کو کوئی ایسی نئی بات نہیں بتا رہا جو آپ کو معلوم نہ ہو۔کیونکہ میر اعلم آپ سے زیادہ نہیں۔ہم آپ سے کسی امر میں سبقت نہیں رکھتے کہ ہم آپ کو اس کی اطلاع دینے کے قابل ہوں اور نہ ہم کسی امر میں منفرد ہی ہیں کہ وہ امر آپ تک پہنچائیں۔بے شک آپ نے وہ سب کچھ دیکھا اور سنا جو ہم نے دیکھا اور سنا۔اور آپ بھی اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی رہے جس طرح ہم تھے۔ابوبکر اور حضرت عمر آپ سے کسی امر میں سبقت رکھنے والے نہ تھے اور آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دامادی کے باعث آنحضرت کے ان دونوں سے زیادہ مقرب ہیں۔۔وَمِنْ كِتَابٍ لَهُ إِلَى مُعَاوِيَةَ إِنَّهُ يَا يَعْنِي الْقَوْمُ الَّذِينَ بَايَعُوْا أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَ عُثْمَانَ عَلَى مَا بَايَعُوا هُمْ عَلَيْهِ۔۔۔۔۔فَإِنِ اجْتَمَعُوا عَلَى رَجُلٍ وَ سَمُّوْهُ إِمَامًا كَانَ ذَالِكَ الله رضا - (نہج البلاغہ، جز ثالث_۶۔و من كتاب له الى معاوية) حضرت علی نے حضرت معاویہ کو ایک خط میں (اپنی خلافت کا یہ ثبوت ) لکھا کہ میری بیعت انہی لوگوں