مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 170
170 اے خالصہ جی! مسلمانی لباس میں گر و مرزا غلام احمد قادیانی پر گنہ بٹالہ میں آگیا ہے اسے مان کر گروجی کے پیارے بن جاؤ اور بے لکھ ہو کر اس کے سرابوں کا شکار نہ ہو جاؤ۔۲۔نہ کلنک اوتار مسلمان ہوگا۔پیشگوئیاں کرے گا اور کتابوں کے ذریعہ خلق اللہ کی اصلاح کرے گا۔( نقل مطابق اصل ) دھند وکار۔جو ورتسی نہ ہندو نہ مسلمان رام رحیم نہ جان نہ کہے کلام ناں گا تیری نہ ترمینوں نہ فاتحہ نہ درود نہ تیرتھ نہ دیہورا نہ دیوی کی پوج گورمکھ کوئی نہ جان سن نہ کرے اپدیش اکو ورتن ورتئے نہ کو کرے اولیس بید کتیب نه جان سن نه دواره نه مسیت روزه با نگ نه ورت نہ نیم نہ کو کڑھے حدیث کوئی نہ کسی کی جان سی نہ کو کرے سلام نانک ٹھبد ورتدا اس کوئی مدھی جان اس کا مطلب خود گر و صاحب فرماتے ہیں کہ ایسا زمانہ جور و ظلم کا آنے والا ہے کہ ہندو مسلمان اپنے دین دھرم کو ترک کر دیں گے۔ہندو گا تیری اور ترین کو بھول جاویں گے اور مسلمان فاتحہ اور درود کی حقیقت سے بے خبر ہوں گے۔دیوی اور تیرتھ یاترا کو ترک کر دیں گے۔ست گرو کو کوئی بھی نہ پہچانے گا اور نہ کوئی نصیحت لے گا۔سب پر ایک ہی طرح کی اباحتی حالت وارد ہو جائے گی۔ہندو اور مسلمان اپنی اپنی کتب اور مقامات مقدسہ کو یکسر فراموش کر دیں گے۔مسلمان نماز روزہ کو جواب دے دیں گے اور مسجد کو دور سے سلام کریں گے یہ تقدیر اسی طرح پر جاری وساری ہوگی۔تدا پر مارتھ ) بھائی اجیتیا ! جدوں گُرو اس دھرتی پر واشٹ ہو جاویں گے تاں پیچھے سنسار وچ ایسی ورت جاوے گی۔کوئی کسے نوں جائے گا نہیں۔اتے دھند و کارورت جاسی اجیہے من مکھ ہون گے۔جو کوئی نہ ہندور ہے گا نہ مسلمان رہے گا نہ رام کو فن گے نہ رحیم کو من گے۔نہ گا تیری ترپن۔اشنان دھرم نہ نیم نہ تیر تھے۔نہ پوجا۔نہ دیوی نہ دیہورا۔نہ دھرم سالہ نہ مسیت۔نہ بانگ نہ نماز نہ فاتحہ نہ دعا سلام۔نہ کو کسے دھیائے سی۔نہ دیوی کی پوجا سنسار کرے گا۔تیس سے نہ کوئی کتے جائیکے پرمیشور دا نام لوے گالس کو مارن گے۔ایسا ور تار اورت جاوے گا۔دوہاں دھراں داناش ہو جاوے گا۔تاں اس سمے اک بھگت پیدا ہو جاوے گا۔سونیل بستر پھرے گا۔اتے اکثر وشبد پوتھیاں او چارے گا۔تاں اِس دے واسطے پر میشور آپ اُتاری ہوئے کر سہائتا کرے گا اُتے شہدا کپ رہ جاوے گا کوئی کوئی والا ہی جانے