مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page ii of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page ii

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ پیش لفظ جماعت احمدیہ کی ایک صدی سے زائد عرصہ پر محیط تاریخ کے مطابق ہر قسم کے ادوار اور دنیا جہاں کے ہر حصہ میں جن خوش نصیب خادمانِ احمدیت کو دعوت الی اللہ کے میدان میں یاد گار خدمات کی سعادت ملی۔ان میں مرحوم محترم جناب ملک عبد الرحمن صاحب خادم بی۔اے۔ایل ایل بی ایڈووکیٹ امیر جماعتہائے احمد یہ شہر ضلع گجرات کا اسم گرامی بہت نمایاں ہے۔کالج کے زمانہ طالب علمی سے لے کر قانون کی پریکٹس کے دوران تا دم آخر پورے برصغیر کے میدانِ مناظرات میں آپ کا طوطی بولتا رہا۔حضرت مصلح موعود نَوَّرَ اللَّهُ مَرْقَدَہ کی زبانِ مبارک سے آپ کو ”خالد احمدیت“ کا خطاب ملا۔وفات پر روز نامه الفضل نے آپ کو احمدیت کے بہادر سپاہی اور سلسلہ کے دلیر اور نڈر مجاہد کے نام سے یاد کیا۔ڈسٹرکٹ بارایسوسی ایشن گجرات نے اپنی قراردار میں لکھا کہ :۔ایک عالم ہمارے درمیان سے اٹھ گیا ہے جو ہمہ گیر لیاقت اور تخلیقی صلاحیتوں کا حامل تھا۔“ ۱۹۳۶ء سے ۱۹۵۶ء تک آپ کو ہر سال جلسہ سالانہ پر خطاب کرنے کا اعزاز ملا۔۱۹۴۰ء میں امیر جماعت منتخب ہوئے۔جماعتی خدمات کے ساتھ ساتھ آپ کو ہمیشہ مثالی رنگ میں عملی وادبی، ملکی وملی اور سماجی و فلاحی خدمات کی توفیق ملتی رہی۔آپ فی الواقع ایک مثالی داعی الی اللہ تھے۔ایک کامیاب مناظر کی حیثیت سے آپ نے سرزمین پنجاب کے گوشے گوشے میں نہایت شاندار مناظرے کئے۔۱۹۵۳ء کے فسادات پنجاب کی تحقیقاتی عدالت میں جماعت احمدیہ کے ایک وکیل کی حیثیت سے نہایت گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔آپ کی غیر معمولی قابلیت خصوصا کتب قدیمہ کی تلاش و تجسس کے حوالہ سے فاضل جج صاحبان نے بر ملا تعریف کرتے ہوئے آپ کا شکریہ ادا کیا۔ہفتہ وار لا ہور نے ایک متعصب مخالف احمدیت کا بھری بزم میں یہ اعتراف درج کیا ہے کہ :۔”اسلام پر اعتراض کا جواب دے کر خادم کا چہرہ یوں کھل اٹھتا ہے جیسے گلاب کا پھول۔“ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی وفات پر آپ کی مثال