مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 146 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 146

146 الجواب :۔قرآن مجید اور احادیث صحیحہ میں کہیں نہیں لکھا کہ حضرت مسیح کو خدا کا کوئی فرشتہ آسمان پر اٹھا کر لے گیا۔قرآن کی تمیں آیات سے حضرت مسیح کی وفات ثابت ہوتی ہے۔قرآن مجید میں بَلْ زَفَعَهُ اللهُ إِلیہ کی آیت بے شک موجود ہے مگر رفع کا ترجمہ آسمان پر اٹھالینا قطعاً غلط ہے قرآن مجید میں ہے يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَتِ (المجادلة: ۱۲) کہ خدا تعالیٰ رفع کرتا ہے تمام ایمان والوں کا اور ان لوگوں کا جن کو خدا تعالیٰ کی طرف سے علم عطا ہوا ہو۔کن معنوں میں ؟ فرمایا درجت یعنی مقامات اور درجات بلند کرنے کے معنوں میں۔اس سے آسمان پر اٹھانا مراد نہیں ہوتا۔اسی طرح حدیث میں بھی ہے۔اِذَا تَوَاضَعَ الْعَبْدُ رَفَعَهُ اللهُ إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ ( كنز العمال جلد ۳ کتاب الاخلاق قسم الاقوال - ۵۷۱۷ دار الكتب العلمیة بیروت لبنان ) کہ جب انسان خدا تعالیٰ کے آگے گر جائے اور انکساری اختیار کرے تو خدا تعالیٰ اس کا ساتویں آسمان پر رفع کرتا ہے۔اب اس حدیث میں ساتویں آسمان کا بھی لفظ ہے مگر پھر بھی اس کے معنے آسمان پر اٹھانے کے نہیں بلکہ درجات کے بلند ہونے کے لئے جاتے ہیں۔مگر قرآن مجید میں جو لفظ حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق آئے ہیں بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ (النساء:۱۵۹) ان میں تو آسمان کا نام بھی نہیں۔اسی طرح قرآن مجید میں ہے وَاذْكُرُ فِي الْكِتَبِ إِدْرِيسَ إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقًا نَّبِيًّا وَرَفَعْنَهُ مَكَانًا عَلِيًّا ( مریم: ۵۸،۵۷) کہ حضرت اور لین سچے نبی تھے اور ہم نے ان کا بلند مکان پر رفع کیا۔اب حضرت ادریس علیہ السلام کے متعلق بھی رفع کا لفظ استعمال ہوا ہے اور مکانا عَليًّا بھی۔کیا وہ بھی آسمان پر زندہ ہیں؟ ۲۔قرآن مجید میں لکھا ہے يعنى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَى (آل عمران : ۵۲) خدا تعالیٰ نے حضرت عیسی علیہ السلام سے وعدہ کیا تھا کہ اے عیسی! پہلے تجھ کو وفات دوں گا پھر تیرا رفع کروں گا۔بَل زَفَعَهُ الله نے بتایا کہ ان کا رفع ہو چکا ہے۔پس ثابت ہوا کہ ان کی وفات بھی ہو چکی ہے کیونکہ رفع سے پہلے وفات کا وعدہ ہے اور متوفیات کے معنے وفات دینے ہی کے ہیں جیسا کہ بخاری میں لکھا۔قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مُتَوَفِّيْكَ مُمِيْتُكَ۔(بخارى كتاب التفسير۔باب ما جعل الله من بحيرة و لاسائبة و لا وصيلة و لا حام) که حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مُتَوَفِيكَ کے