مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 141
141 دلیل نمبر۲ حضرت مسیح کی والدہ کا تمام جہان کی عورتوں سے افضل ہونا الجواب۔قرآن مجید میں حضرت مریم کے متعلق اِضطفكِ عَلَى نِسَاءِ الْعَلَمِينَ (آل عمران: ٢٣) تو بے شک آتا ہے مگر اس جگہ العلمین سے مراد دنیا میں قیامت تک پیدا ہونے والی عورتیں مراد لینا درست نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو قرآن مجید کے شارح اول بلکہ معلم اعظم اور يُعلِّمُهُمُ الكتب وَالْحِكْمَةَ (البقرة: ۱۳۰) کے مصداق ہیں۔اس آیت کی تفسیر فرمائی ہے۔چنانچہ تفسیر بیضاوی میں یہ روایت درج ہے۔فَقَالَ اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَكِ شَبِيْهَةَ سَيِّدِةِ نِسَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ - ( بیضاوی تفسیر سورۃ آل عمران ۴۴- زیر آیت قَالَ يَا مَرْيَمُ أَنَّى لَكِ هَذَا۔۔۔۔۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت مریم بنی اسرائیل کی عورتوں کی سردار تھیں۔اب جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مریم صدیقہ کو سَيِّدَةُ نِسَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ قرار دیا ہے۔ان کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ پر فضیلت کیسے ثابت ہوئی ؟ ہاں اتنا ضرور ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ کو سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الجنة (بخاری کتاب فضائل اصحاب النبي باب مناقب فاطمہ جلد۲ صفحه ۱۹) سب جنتی عورتوں کی سردار قرار دیا ہے۔اب حضرت مریم یقینانِسَاءِ اَهْلِ الْجَنَّةِ میں سے ہیں۔پس فاطمہ ان سے افضل ٹھہریں۔اس سے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت ثابت ہوئی۔کیونکہ اگر حضرت عیسی علیہ السلام کی والدہ اپنے زمانہ کی عورتوں میں سب سے افضل تھیں تو اس میں حضرت عیسی علیہ السلام کے کمال کا کیا دخل؟ ہاں یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی کا کمال تھا۔کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بے نظیر تربیت کے نتیجہ میں آپ کی بیٹی حضرت عیسی علیہ السلام کی والدہ پر سبقت لے گئیں۔قرآن مجید میں جہاں حضرت مریم کے متعلق زیر بحث الفاظ آئے ہیں وہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور خبر یہ نہیں بتایا گیا کہ حضرت مریم کو خدا تعالیٰ نے تمام جہاں کی عورتوں میں سے چن لیا ہے تا یہ نتیجہ نکل سکے کہ گویا حضرت مریم" زمانہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی عورتوں سے بھی افضل ہیں بلکہ قرآن مجید میں ذکر یہ ہے کہ فرشتے نے جب وہ حضرت مریم کو ولادت مسیح کی خوشخبری دینے آیا اس وقت ان سے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کی سب عورتوں میں آپ کو چنا ہے۔پس اس آیت سے اتنا ہی ثابت ہوسکتا ہے کہ اس وقت جب فرشتے نے یہ کہا کہ جس قدر عورتیں موجود تھیں ان میں سے حضرت مریم کو ایک نبی کی ماں بننے کے لئے خدا تعالیٰ نے چنا۔بعد میں پیدا ہونے والی عورتوں کا نہ وہاں ذکر