مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 128
128 قرآن کا مسیح اور انجیل کا یسوع تحریرات حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمیں پادریوں کے یسوع اور اس کے چال چلن سے کچھ غرض نہ تھی۔انہوں نے ناحق ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دے کر ہمیں آمادہ کیا کہ ان کے یسوع کا کچھ تھوڑا سا حال ان پر ظاہر کریں چنانچہ اسی پلید نالائق فتح مسیح نے اپنے خط میں جو میرے نام بھیجا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو زانی لکھا ہے اور اس کے علاوہ اور بہت گالیاں دی ہیں۔( حاشیہ ) اگر پادری اب بھی اپنی پالیسی بدل دیں اور عہد کر لیں کہ آئندہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں نہیں نکالیں گے تو ہم بھی عہد کریں گے کہ آئندہ نرم الفاظ کے ساتھ ان سے گفتگو ہوگی ور نہ جو کچھ کہیں گے اس کا جواب سنیں گے۔“ ( ضمیمہ رسالہ انجام آتھم۔روحانی خزائن جلدا اصفحه ۲۹۳٬۲۹۲ بقیه حاشیه ) ۲۔مسلمانوں کو واضح رہے کہ خدا تعالیٰ نے یسوع کی قرآن شریف میں کچھ خبر نہیں دی کہ وہ کون تھا اور پادری اس بات کے قائل ہیں کہ یسوع وہ شخص تھا جس نے خدائی کا دعویٰ کیا اور حضرت موسیٰ کا نام ڈاکو اور بٹمار رکھا اور آنے والے مقدس نبی کے وجود سے انکار کیا اور کہا کہ میرے بعد سب جھوٹے نبی آئیں گے۔“ (ضمیمہ رسالہ انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد ا ا صفحه ۲۹۳ بقیہ حاشیہ ) ہم اس بات کے لئے بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا تعالیٰ کا سچا اور پاک اور راستباز نبی مانیں اور اُن کی نبوت پر ایمان لاویں۔سو ہماری کسی کتاب میں کوئی ایسا لفظ بھی نہیں ہے جو اُن کی شان بزرگ کے برخلاف ہو اور اگر کوئی ایسا خیال کرے تو وہ دھوکہ کھانے والا اور جھوٹا ہے۔“ ( ایام الصلح۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۲۸ تبلیغ رسالت مجموعہ اشتہارات جلدے صفحہ ۷۷ ) ۴۔میں یقین رکھتا ہوں کہ کوئی انسان حسین جیسے یا حضرت عیسی جیسے راستباز پر بد زبانی کر کے ایک رات بھی زندہ نہیں رہ سکتا اور وعید مَنْ عَادَا وَلِيَّالِی دست بدست اُس کو پکڑ لیتا ہے۔“ ( اعجاز احمدی۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۴۹)