مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 118
118 وغیرہ۔یہ نشان تو مسیح کی آمد ثانی کے پہلے ہونے ہیں نہ کہ اس کی آمد کے بعد۔الجواب:۔یہ عقلاً غلط ہے۔سزا ہمیشہ قانون کی خلاف ورزی کے بعد ہوتی ہے نہ کہ اس سے قبل؟ دنیا میں عالمگیر عذاب ہمیشہ نبی کی بعثت اور اس کی تکذیب کے بعد ہی آیا کرتے ہیں۔جیسا کہ قرآن مجید میں بھی ہے وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا (بنی اسرائیل: ۱۶) اور یہی بات آپ کی توریت میں بھی لکھی ہے۔اور یہ ہوگا کہ جو شخص اس نبی کی نہ سنے گا وہ امت میں سے نیست و نابود ہو جائے گا۔(استثنا ۸/۱۹ او اعمال ۳/۲۳) الہذا آپ کی انجیل کے کاتب نے اتنی غلطی کی ہے کہ پیچھے واقع ہونے والی بات کو پہلے لکھ دیا۔پس کا تب کا قلم باطل ہے۔( یرمیاہ: ۸/۸) اور انجیل میں لکھا ہے کہ مسیح موعود کی آمدا چا نک ہوگی اور اس کا اس سے قبل کسی کو علم نہ ہوگا۔پس اس سے پہلے بیماریاں پڑنا غلط ثابت ہوا۔(متی ۳۲ تا ۲۴٫۴۳ مرقس ۳۲ تا ۱۳/۳۷) پانچواں اعتراض:۔مرزا صاحب کو ان کے گھر میں قبولیت نہ ہوئی۔قادیان میں بھی سب لوگ احمدی نہیں ہوئے۔پنجاب اور ہندوستان نے ان کو قبول نہیں کیا۔الجواب:۔یہ حضرت مرزا صاحب کی صداقت کی دلیل ہے نہ کہ کذب کی۔خود یسوع کہتا ہے:۔(الف) میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ کوئی نبی اپنے وطن میں مقبول نہیں ہوتا۔(لوقا ۴/۲۴) (ب) نبی اپنے وطن اور اپنے گھر کے سوا کہیں بے عزت نہیں ہوتا۔(متی ۱۳/۵۷) (ج) یہی تو مسیح ناصری کی پیشگوئی تھی کہ مسیح کی آمد ثانی کے وقت اس کی تکذیب ہوگی اور لوگ اسے نہیں مانیں گے۔ا۔لیکن پہلے ضرور ہے کہ بہت دُکھ اٹھائے اور اس زمانہ کے لوگ اسے رد کر یں۔ابن آدم کے ظاہر ہونے کے دن بھی ایسا ہی ہوگا۔“ (لوقا ۱۷/۲۵) ۲۔لیکن میں تم سے کہتا ہوں کہ ایلیاہ تو آپکا اور انہوں نے اس کو نہیں پہچانا بلکہ جو چاہا اس کے ساتھ کیا۔اسی طرح ابن آدم بھی ان کے ہاتھ سے دُکھ اٹھائے گا۔(متی ۱۷/۱۲) (د) نئے عہد نامے میں صاف لفظوں میں موجود ہے کہ تکذیب ہونا اور دکھ پہنچنا سچے نبیوں کی علامت ہے۔ملاحظہ ہو۔یعقوب ۵/۱۰۔”جن نبیوں نے خداوند کے نام سے کلام کیا ان کو دُکھ اٹھانے اور صبر کرنے کا نمونہ سمجھو تم نے ایوب کے صبر کا حال تو سنا ہی ہے۔“