مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 97
97 منادی کی۔(اعمال ۱۱۳) اور اس کے جواب میں اس نے ایک بے معنی سا خواب سنا کر ان کو ٹالنا چاہا۔اگر یسوع نے کبھی غیر قوموں کی ہدایت کا بھی دعوی کیا ہوتا۔تو پطرس اپنی خواب سنانے کی بجائے یسوع کا وہ قول پیش کرتا جس سے ثابت ہوا کہ غیر قوموں میں تبلیغ محض پولوس کی ایجاد ہے۔پس جب کفارہ بنی اسرئیل میں محدود ہو گیا تو خدا کی باقی ساری مخلوق اس سے محروم ہو گئی اور خدا کے بیٹے کی اتنی بڑی قربانی "کوه کندن و کاہ بر آوردن“ کی مصداق ہوئی۔66 ۳۳۔قول عیسائی کہ انسان کمزور ہے۔گناہ اٹھا نہیں سکتا۔اس لئے خدا کے بیٹے نے وہ گناہ اٹھا لئے۔یہ عدل کے خلاف ہے۔دوسروں کے عوض میں کسی کو سزا کیوں دی جاوے۔اس موقع پر تو ”اندھیر نگری چوپٹ راجہ والی مثال صادق آئے گی۔۳۴۔قول عیسائی کہ اگر خدا گناہوں کی سزا نہ دیوے اور وہ بخش دے تو یہ عدل کے خلاف ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ لوگوں نے عدل کی تعریف غلط مجبھی ہے۔عدل کہتے ہیں کسی کا حق نہ مارنا۔جیسے مزدور کو ایک روپیہ کی بجائے دو دے دیں تو یہ عدل کے خلاف نہیں۔ہاں ایک روپیہ کی بجائے آٹھ آنے دے دیں تو خلاف عدل ہے۔اسی طرح گناہ معاف کرنا عدل کے خلاف نہیں۔ہاں بڑھ کر سزا دینا عدل کے خلاف ہے۔ثواب میں انعام ہوتا ہے۔اگر اعمال سے زیادہ دیا جائے تو خلاف عدل نہیں۔اس کے متعلق انجیل کی شہادت۔صاحب مکان کے مزدوروں کا قصہ نقلی دلائل امتی ۶/۱۴۔اگر تم آدمیوں کے گناہ بخشو گے تو تمہارا باپ بھی جو آسمان پر ہے تمہیں بخش دے گا۔پس جب خود خدا نہیں بخش سکتا تو وہ بندوں کو کیسے کہتا ہے کہ تم بخشو؟ ۲۔استثنا ۱۸، ۹/۱۹۔اسرائیلیوں کی ہلاکت کو نبی کی دعا سے ٹال دیا۔معلوم ہوا کہ گناہ بغیر کفارہ بھی معاف ہو سکتے ہیں۔۔پیدائش ۲۰۱۷ ”نبی کی دعا ہمارے واسطے شفاعت کرتی ہے اور ہمیں زندگی بخشتی ہے۔کسی کفارہ کی ضرورت نہ رہی۔کفارہ پر ایمان لانے سے خرابیاں (۱) دعا کا مسئلہ فضول جاتا ہے (۲) گناہ پر دلیری۔عیسائی گناہ کرے یسوع بخشوا دے