مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 63
63 اگر تمام ایک جیسے ہوں تو کبھی کا یہ سلسلہ درہم برہم ہو جاتا۔۱۸۔اگر دنیا کا تمام سلسلہ گناہوں کے سلسلہ پر چل رہا ہے تو پھر پر میشور سرب کہاں رہا۔سب کچھ ہمارے گناہوں کے طفیل ہورہا ہے۔پھر پر میشور کی کیا ضرورت ہے؟ ۱۹۔ایشور، روح ، مادہ تعین کیوں ہیں؟ اس اختلاف کی کیا وجہ ہے؟ شکتیمان ۲۰۔اگر پر میشور کے عطیات پچھلے اعمال کے بدلے پر ہی موقوف ہیں تو پھر دیا نند جی کا (ستیارتھ پر کارش به دفعه ۴۳) میں بے نظیر اولا دحاصل کرنے کے لئے یہ طریق جماع لکھنا کہ جب ویرج (منی) گرنے کا وقت ہو اس وقت مرد عورت بے حرکت ناک کے سامنے ناک آنکھ کے سامنے آنکھ یعنی سیدھا جسم رکھیں اور نہایت خوش دل رہیں۔ہمیں نہیں۔مرد اپنے جسم کو ڈھیلا چھوڑے اور عورت و مرج حاصل کرنے کے لئے اپان وایو کو اوپر کھینچے۔جائے مخصوص کو اوپر سکوڑ کر ویر یہ کو او پر کشش کر کے رحم میں ٹھہرائے وغیرہ وغیرہ اس قدر طویل طویل آسن لکھنا فضول ٹھہرتا ہے کیونکہ پچھلے اعمال کی بدولت جو کچھ ملنا ہے وہ بہر حال ملنا ہے۔یہ مفت کی کوشش اور محنت کرنے سے کیا حاصل؟ ۲۱۔بعض گناہ بتائے گئے ہیں جن سے خاص خاص جونوں میں انسان پڑتا ہے۔کاش سب گناہ بتا دیئے جاتے کہ فلاں گناہ سے فلاں فلاں جون میں ڈالا جاتا ہے تو ہمیں بہت آسانی ہوتی تا کہ ہمیں جس چیز کی ضرورت ہوتی وہی تیار کر والی جاتی۔(دیکھو بعض جونوں کے گناہ منوسمرتی ادھیائے ۱۲ شلوک ۵۴ تا آخر ) ۲۲۔اگر تناسخ درست مانا جائے تو خدا تعالیٰ کی قدرتوں کا انکار کرنا پڑتا ہے۔اس طرح ماننا پڑے گا کہ خدا ارواح کو پیدا نہیں کر سکتا اور نہ ہی کچھ گناہ معاف کرتا ہے۔حالانکہ ایک شریف انسان کئی دفعہ قصور معاف کر دیتا ہے۔گویا دریں صورت خدا کو ایک بھیانک اور کینہ ور ماننا پڑے گا۔۲۳۔اگر تناسخ درست ہے تو ماننا پڑے گا کہ انسان جو نیک کام کرتا ہے اُن کا بدلہ نہیں مل سکتا کیونکہ اگر اس نے ہزار نیکیاں کیں اور ایک بدی کی اور پھر اس بدی کے عوض میں مثلاً کتے کی جون میں گیا تو پھر وہ درجہ بدرجہ گنہ گار ہوتا جائے گا اور آخر کا رنجات کا منہ نہ دیکھ سکے گا۔۲۴۔ہمیں بتایا جائے کہ مدار زندگی کیا ہیں؟ پس ظاہر ہے کہ وہ ہوا ، پانی ، آگ، کھانا وغیرہ ہیں اور ان کا انسانی پیدائش سے پہلے پیدا ہونا ضروری ہے۔اگر کہو کہ پہلے پیدا ہوگئی تھیں تو پھر