مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 60 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 60

60 ۳۔اگر اختلاف کو دلیل مانا جائے تو پھر چاہیے کہ جہاں دلیل پائی جائے وہاں دعوی بھی پایا جائے اور جہاں اختلاف پایا جائے وہاں پچھلے جنم کے اعمال کا اُسے نتیجہ مانا جائے۔مثلاً ہم کہتے ہیں کہ خدا میں تین صفتیں پائی جاتی ہیں (ست - چت انند ) اور روح میں (ست۔چت ) اور مادہ میں (ست) ہے۔کیا ان کا اختلاف بھی پچھلے جنم کے اعمال کی وجہ سے ہے۔کیا وجہ ہے کہ خدا ہمیشہ حاکم اور روح ہمیشہ محکوم رہتی ہے۔دوسری مثال:۔پھر دیکھو فلکی اجرام میں کوئی سورج، کوئی ستارہ ، کوئی چاند کوئی سیارہ، کیا ان کا اختلاف بھی وہی وجہ رکھتا ہے؟ یا کوئی اور۔تیسری مثال:۔بعض بعض ایسی زمینیں ہیں کہ ان سے ہیرا اور محل نکلتا ہے اور کسی سے سنگ خارا اور بعض سے کچھ بھی نہیں۔کیا اس اختلاف کا باعث بھی پچھلے جنم کے اعمال ہیں۔۴۔جونوں کی نوع میں جو اختلاف پایا جاتا ہے مثلاً پھلدار درختوں آم کھجور اور بمبئی کے آم وغیرہ۔پھر عرب کے گھوڑے اور ہندوستان کی گھوڑیاں۔کشمیر کے سیب۔یوپی کے آم وغیرہ کیا مختلف شہروں کے آموں وغیرہ میں مختلف ذائقہ اور خوبی اسی تناسخ کی وجہ سے ہے یا کسی اور وجہ سے۔پھر پتھروں کی مختلف قسمیں۔بعض بہت قیمتی اور بعض بالکل روی پتھروں میں جو نہیں جاتی ہیں۔(ستیارتھ پرکاش ب۳۳ دفعه ۹/۳۱) - آریہ کہتے ہیں کہ مکتی خانہ میں سنسکرت بولی جاتی ہے بلکہ وید کنٹھ ہوتے ہیں مگر جب دنیا میں آتے ہیں تو وہ بھول جاتے ہیں۔سوال اس پر یہ ہے کہ اگر وہاں ایسے ازبر ہوتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ یہاں آکر بالکل بھول جاتے اور عقل پر ایسے پتھر پڑ جاتے ہیں کہ کوئی حرف بھی یاد نہیں رہتا معلوم ہوتا ہے کہ یہ بات ہی غلط ہے۔علم طب رائیگاں جاتا ہے کیونکہ اگر تمام امراض وغیرہ خدا کی طرف سے ہیں اور گولا، لنگڑا، اندھا ، کانا ہونا کسی پچھلے جنم کے اعمال کے نتیجہ میں ہے تو ہمیں ان کا علاج نہیں کرنا چاہیے۔اگر علاج کریں تو اس میں خدا کا مقابلہ ہوگا کیونکہ خدا تو انہیں سزا دینا چاہتا ہے مگر ہم اس سزا کو دور کرنا چاہتے ہیں۔ے۔آریہ لوگ تناسخ کے مسئلہ کے اس لئے قائل ہیں کہ اگر وہ اسے نہ مانیں تو وہ جانتے ہیں کہ ہمارا خدا ارواح کو پیدا تو کر سکتا نہیں۔پس جب روحیں محدود اور پر میشور پیدا کرنے سے عاجز ہے۔