فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 73
مسیح ہندوستان میں 73 فلسطین سے کشمیر تک یہی اس کی نبوت کی علت غائی تھی کہ وہ ان گمشدہ یہودیوں کو مانتا جو ہندوستان کے مختلف مقامات میں سکونت پذیر ہو گئے تھے وجہ یہ کہ در حقیقت وہی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑیں تھیں جنہوں نے ان ملکوں میں آکر اپنے باپ دادے کا مذہب بھی ترک کر دیا تھا اور اکثر ان کے بدھ مذہب میں داخل ہو گئے تھے۔اور پھر رفتہ رفتہ بت پرستی تک نوبت پہنچی تھی۔چنانچہ ڈاکٹر بر نیر نے بھی اپنی کتاب وقائع سیر وسیاحت میں کئی اہل علم کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ کشمیر کے باشندے دراصل یہودی ہیں کہ جو تفرقہ شاہ اسور کے ایام میں اس ملک میں آگئے تھے۔بہر حال حضرت مسیح علیہ السلام کے لئے یہ ضروری تھا کہ ان گمشدہ بھیڑوں کو تلاش کرتے جو اس ملک ہند میں آکر دوسری قوموں میں مخلوط ہوگئی تھیں۔چنانچہ آگے چل کر ہم اس بات کا ثبوت دیں گے کہ حضرت مسیح علیہ السلام فی الواقع اس ملک ہند میں آئے اور پھر منزل بمنزل کشمیر میں پہنچے۔اور اسرائیل کی گمشدہ بھیڑوں کا بدھ مذہب میں پتہ لگایا۔اور انہوں نے آخر اس کو اسی طرح قبول کیا جیسا کہ یونس کی قوم نے یونس کو قبول کر لیا تھا۔اور ضرور تھا کہ ایسا ہوتا کیونکہ مسیح انجیل میں اپنی زبان سے اس بات کو بیان کرتا ہے کہ وہ اسرائیل کی گمشدہ بھیڑوں کے لئے بھیجا گیا ہے۔ماسوا اس کے صلیب کی موت سے نجات پانا اس کو اس لئے بھی ضروری تھا کہ مقدس کتاب میں لکھا ہے کہ جو کوئی کا ٹھ پر لٹکایا گیا سولعنتی ہے۔اور لعنت کا ایک ایسا مفہوم ہے کہ جو عیسی میسیج جیسے برگزیدہ پر ایک دم کے لئے بھی تجویز کرنا سخت ظلم اور نا انصافی ہے۔کیونکہ باتفاق تمام اہل زبان لعنت کا مفہوم دل سے تعلق رکھتا ہے۔اور اس حالت میں کسی کو ملعون کہا جائے گا جب کہ حقیقت میں اس کا دل خدا سے برگشتہ ہو کر سیاہ ہو جائے اور خدا کی رحمت سے بے نصیب اور خدا کی محبت سے بے بہرہ اور خدا کی معرفت سے بکلی تہی دست اور خالی اور شیطان کی طرح اندھا اور بے بہرہ ہو کر گمراہی کے زہر سے بھرا ہوا ہواور خدا کی محبت اور معرفت کا نور ایک ذرہ اس میں باقی نہ رہے اور تمام تعلق مہر و وفا کا ٹوٹ جائے اور اس میں اور خدا میں باہم بغض اور نفرت اور کراہت اور عداوت پیدا ہو جائے۔یہاں دیکھو جلد دوم واقعات سیروسیاحت ڈاکٹر بر نیر فرانسیسی