فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 72
مسیح ہندوستان میں 72 فلسطین سے کشمیر تک پہلا باب جاننا چاہئیے کہ اگر چہ عیسائیوں کا یہ اعتقاد ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام یہودا اسکر یوطی کی شرارت سے گرفتار ہوکر مصلوب ہو گئے اور پھر زندہ ہوکر آسمان پر چلے گئے۔لیکن انجیل شریف پر غور کرنے سے یہ اعتقاد سراسر باطل ثابت ہوتا ہے۔متی باب ۱۲ آیت ۴۰ میں لکھا ہے کہ جیسا کہ یونس تین رات دن مچھلی کے پیٹ میں رہا ویسا ہی ابن آدم تین رات دن زمین کے اندر رہے گا۔اب ظاہر ہے کہ یونس مچھلی کے پیٹ میں مرا نہیں تھا۔اور اگر زیادہ سے زیادہ کچھ ہوا تھا تو صرف بیہوشی اور غشی تھی۔اور خدا کی پاک کتا بیں یہ گواہی دیتی ہیں که یونس خدا کے فضل سے مچھلی کے پیٹ میں زندہ رہا اور زندہ نکلا۔اور آخر قوم نے اس کو قبول کیا۔پھر اگر حضرت مسیح علیہ السلام مچھلی * کے پیٹ میں مر گئے تھے تو مردہ کو زندہ سے کیا مشابہت اور زندہ کو مردہ سے کیا مناسبت؟ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ چونکہ مسیح ایک نبی صادق تھا اور جانتا تھا کہ وہ خدا جس کا وہ پیارا تھا لعنتی موت سے اس کو بچائے گا۔اس لئے اس نے خدا سے الہام پا کر پیشگوئی کے طور پر یہ مثال بیان کی تھی اور اس مثال میں جتلا دیا تھا کہ وہ صلیب پر نہ مرے گا اور نہ لعنت کی لکڑی پر اس کی جان نکلے گی بلکہ یونس نبی کی طرح صرف غشی کی حالت ہوگی۔اور مسیح نے اس مثال میں یہ بھی اشارہ کیا تھا کہ وہ زمین کے پیٹ سے نکل کر پھر قوم سے ملے گا اور یونس کی طرح قوم میں عزت پائے گا۔سو یہ پیشگوئی بھی پوری ہوئی۔کیونکہ مسیح زمین کے پیٹ میں سے نکل کر اپنی ان قوموں کی طرف گیا جو کشمیر اور تبت وغیرہ مشرقی ممالک میں سکونت رکھتی تھیں یعنی بنی اسرائیل کے وہ دس ۱۰ فرقے جن کو شالمنذرشاہ اسور سامریہ سے مسیح سے سات سوا کیس ۷۲۱ برس پیشتر اسیر کر کے لے گیا آخر وہ ہندوستان کی طرف آکر اس ملک کے متفرق مقامات میں سکونت پذیر ہوگئے تھے۔اور ضرور تھا کہ مسیح اس سفر کو اختیار کرتا۔کیونکہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے لے۔اور ان کے سوا اور یہودی بھی بابلی حوادث سے مشرقی بلا د کی طرف جلاوطن ہوئے۔منہ ہ کا تب کی غلطی سے پہلے ایڈیشن میں مچھلی لکھا گیا۔اصل میں زمین ہے۔