فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 45 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 45

ایام الصلح 45 فلسطین سے کشمیر تک اور تعدّی سے چھڑایا اور آخر خلافت اور بادشاہت اور حکومت تک پہنچایا۔ایسا ہی یہودیوں پر بھی آپ نے آزادی اور نجات کا دروازہ کھولا اور پھر حکومت اور امارت تک پہنچایا۔یہاں تک کہ چند صدیوں کے بعد ہی وہ رُوئے زمین کے بادشاہ ہو گئے کیونکہ یہ قوم افغان جن کی اب تک افغانستان میں بادشاہت پائی جاتی ہے۔یہ لوگ دراصل یہودی ہی ہیں۔اور بر نیر صاحب اپنی کتاب وقائع عالمگیر میں یہ بھی ثابت کرتے ہیں کہ تمام کشمیری بھی دراصل یہودی ہیں اور اُن میں بھی ایک بادشاہ گذرا ہے اور افغانوں کی بادشاہت مسلسل کئی صدیوں سے چلی آتی ہے۔اب جبکہ یہودیوں کی کتب مقدسہ میں نہایت صفائی سے بیان کیا گیا ہے کہ موسیٰ کی مانند ایک منجی ان کے لئے بھیجا جائے گا یعنی وہ ایسے وقت میں آئے گا کہ جب قوم یہود فرعون کے زمانہ کی طرح سخت ذلت اور دُکھ میں ہوگی۔اور پھر اُس منجی پر ایمان لانے سے وہ تمام دکھوں اور ذلتوں سے رہائی پائیں گے تو کچھ شک نہیں کہ یہ پیشگوئی جس کی طرف یہود کی ہر زمانہ میں آنکھیں لگی رہی ہیں وہ ہمارے سید ومولی محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جن کے ذریعہ سے توریت کی پیشگوئی کمال وضاحت سے پوری ہوگئی۔کیونکہ جب یہودی ایمان لائے تو اُن میں سے بڑے بڑے بادشاہ ہوئے یہ اس بات پر دلیل واضح ہے کہ خدا تعالیٰ نے اسلام لانے سے اُن کا گناہ بخشا اور اُن پر رحم کیا جیسا کہ توریت میں وعدہ تھا۔(ایاما الصلح۔روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 297 تا303) اس سے انکار نہیں ہوسکتا کہ تمام افغان یوسف زئی۔داؤ دز کی۔لودی۔سروانی۔اورکزئی۔سد وزئی۔بارک زئی وغیرہ دراصل بنی اسرائیل ہیں۔اور ان کا مورث اعلیٰ قیس ہے۔اور چونکہ یہ بھی ایک مشہور واقعہ افغانوں میں ہے کہ والدہ کی طرف سے ان کے سلسلہ کی ابتدا سارہ بنت خالد بن ولید سے ہے۔یعنی قیس اُن کے مورث نے سارہ سے شادی کی تھی اس لئے اور ان معنوں سے وہ خالد کی آل بھی ٹھہرے۔لیکن بہر حال یہ متفق علیہ افغانوں میں تاریخی امر ہے کہ قیس مورث اعلیٰ اُن کا بنی اسرائیل میں سے تھا۔یہ بات یہودیوں اور عیسائیوں اور مسلمانوں یعنی تینوں فرقوں نے بالا تفاق تسلیم کی ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام سے قریباً سات سو برس پہلے بخت نصر بابلی نے بنی اسرائیل کو گرفتار کر کے