فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 41
الغطاء 41 فلسطین سے کشمیر تک خیالات کے اور کچھ نہیں۔اگر میرے مقابل پر ان لوگوں کے اعتقادات کا عدالت میں اظہار لیا جائے تو معلوم ہو کہ کیسے یہ لوگ خطر ناک اعتقادات میں مبتلا ہیں کہ نہ صرف راستی سے دور بلکہ امن اور سلامت روشی سے بھی دور ہیں۔اور میں اخیر پر اس رسالہ کو اس بات پر ختم کرنا چاہتا ہوں کہ اگر چہ عیسائی عقیدوں کے لحاظ سے حضرت مسیح کا دوبارہ آنا پولیٹیکل مصالح سے کچھ تعلق نہیں رکھتا مگر جس طور سے حال کے اسلامی مولویوں نے حضرت عیسی کا آسمان سے اترنا اور مہدی کے ساتھ اتفاق کر کے جہادی لڑائی کرنا غلط طور پر اپنے اعتقاد میں داخل کر لیا ہے یہ عقیدہ نہ صرف جھوٹ ہے بلکہ خطر ناک بھی ہے اور جو کچھ حال میں حضرت عیسی کے ہندوستان میں آنے اور کشمیر میں وفات پانے کا مجھے ثبوت ملا ہے وہ ان خطرناک خیالات کو دانشمند دلوں سے بکلی مٹا دیتا ہے۔اور میری یہ تحقیق عارضی اور سرسری نہیں بلکہ نہایت مکمل ہے۔چنانچہ ابتدا اس تحقیق کا اُس مرہم سے ہے جو مر ہم عیسی کہلاتی ہے اور مرہم حوار بین بھی اس کو کہتے ہیں اور طب کی ہزار کتاب سے زیادہ میں اس کا ذکر ہے اور مجوسی اور یہودی اور عیسائی اور مسلمان طبیبوں نے اپنی اپنی کتابوں میں اس کا ذکر کیا ہے۔چونکہ میں نے بہت سا حصہ اپنی عمر کافنِ طبابت کے پڑھنے میں بسر کیا ہے اور ایک بڑا ذخیرہ کتابوں کا بھی مجھ کو ملا ہے اس لئے چشم دید طور پر یہ دلیل مجھ کو ملی ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام خدا تعالیٰ کے فضل سے اور اپنی دردمندانہ دعاؤں کی برکت سے صلیب سے نجات پاکر اور پھر عالم اسباب کی وجہ سے مرہم حوار بین کو استعمال کر کے اور صلیبی زخموں سے شفا پا کر ہندوستان کی طرف آئے تھے۔صلیب پر ہرگز فوت نہیں ہوئے کچھ غشی کی صورت ہوگئی تھی جس سے خدا کی مصلحت سے تین دن ایسی قبر میں بھی رہے جو گھر کے دار تھی اور چونکہ یونس کی طرح زندہ تھے آخر اس سے باہر آگئے۔اور پھر دوسرا ماخذ اس تحقیق کا مختلف قوموں کی وہ تاریخی کتا ہیں ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ضرور حضرت عیسی علیہ السلام ہندوستان اور تبت اور کشمیر میں آئے تھے اور حال میں جو ایک روسی سیاح نے بدھ مذہب کی کتابوں کے حوالہ سے حضرت عیسی علیہ السلام کا اس ملک میں آنا ثابت کیا ہے وہ کتاب میں نے دیکھی ہے اور میرے پاس ہے وہ کتاب بھی اس رائے کی مؤید ہے۔