فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 10
ست بچن 10 فلسطین سے کشمیر تک پہلے حواریوں سے انکا کچھ تعلق نہ تھا بلکہ حواریوں کو حواری کا لقب اسی وقت سے ملا کہ جب وہ لوگ حضرت عیسی کی نبوت کے بعد ان پر ایمان لائے اور انکا ساتھ اختیار کیا اور پہلے تو انکا نام مجھے یا ماہی گیر تھا سو اس سے صاف تر اور کیا قرینہ ہوگا کہ یہ مرہم اس نام کی طرف منسوب ہے جو حواریوں کو حضرت مسیح کی نبوت کے بعد ملا اور پھر ایک اور قرینہ یہ ہے کہ اس مرہم کو مرہم رسل بھی کہتے ہیں۔کیونکہ حواری حضرت عیسی کے رسول تھے۔اور اگر یہ گمان ہو کہ ممکن ہے کہ یہ چوٹیں حضرت مسیح کو نبوت کے بعد کسی اور حادثہ سے لگ گئی ہوں اور صلیب پر مر گئے ہوں جیسا کہ نصاریٰ کا زعم ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تو ثابت ہو چکا ہے کہ یہ چوٹیں نبوت کے بعد لگی ہیں اور ظاہر ہے کہ اس ملک میں نبوت کا زمانہ صرف تین برس بلکہ اس سے بھی کم ہے پس اگر اس مختصر زمانہ میں بجز صلیب کی چوٹوں کے کسی اور حادثہ سے بھی یسوع کو چوٹیں لگی تھیں اور ان چوٹوں کے لئے یہ مرہم طیار ہوئی تھی تو اس دعوئی کا بار ثبوت عیسائیوں کی گردن پر ہے جو حضرت عیسی کو جسم سمیت آسمان پر چڑھا رہے ہیں یہ مرہم حوار تین متواترات میں سے ہے اور متواترات علوم حسیہ بدیہ کی طرح ہوتے ہیں جن سے انکار کرنا حماقت ہے۔اگر یہ سوال پیش ہو کہ ممکن ہے کہ چوٹوں کے اچھا ہونے کے بعد حضرت عیسی آسمان پر چڑھائے گئے ہوں تو اس کا جواب یہی ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کو آسمان پر چڑھانا ان کا منظور ہوتا تو زمین پر ان کیلئے مرہم طیار نہ ہوتی آسمان پر لیجانے والا فرشتہ اسکے زخم بھی اچھے کر دیتا اور انجیل میں دیکھنے والوں کی شہادت رویت صرف اس قدر ہے کہ ان کو سڑک پر جاتے دیکھا اور تحقیقات سے ان کی قبر کشمیر میں ثابت ہوتی ہے اور اگر کوئی خوش فہم مولوی یہ کہے کہ قرآن میں ان کی رفع کا ذکر ہے تو اسکے جواب میں یہ التماس ہے کہ قرآن میں رفع الی اللہ کا ذکر ہے نہ رفع الی السماء کا پھر جبکہ اللہ جل شانہ نے یہ فرمایا ہے کہ يَعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ إِلَى* تو اس سے قطعی طور پر سمجھا جاتا ہے کہ رفع موت کے بعد ہے کیونکہ آیت کے یہ معنی ہیں کہ میں تجھے وفات دوں گا اور اپنی طرف اٹھالوں گا سو اس میں کیا کلام ہے کہ خدا کے نیک بندے وفات کے بعد خدا کی طرف اٹھائے جاتے ہیں۔سو وفات کے بعد نیک بندوں کا رفع ہونا آل عمران : 56