فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 293
ملفوظات 293 فلسطین سے کشمیر تک کہ وہ ایک دفعہ ہی سارے نہ آئے ہوں بلکہ متفرق طور پر آگئے ہوں؛ چنانچہ تھوما کا تو ہندوستان میں آنا ثابت ہی ہے اور خود عیسائیوں نے مان لیا ہے۔اس قسم کی ہجرت کے لیے خود آنحضرت ﷺ کی ہجرت کی نظیر موجود ہے؛ حالانکہ مکہ میں آپ کے وفادار اور جاں نثار خدام موجود تھے۔لیکن جب آپ نے ہجرت کی تو صرف حضرت ابوبکر کو ساتھ لے لیا۔مگر اس کے بعد جب آپ مدینہ پہنچ گئے تو دوسرے اصحاب بھی یکے بعد دیگرے وہیں جا پہنچے۔لکھا ہے کہ جب آپ ہجرت کر کے نکلے اور غار میں جا کر پوشیدہ ہوئے تو دشمن بھی تلاش کرتے ہوئے وہاں جا پہنچے۔اُن کی آہٹ پاکر حضرت ابوبکر گھبرائے تو اللہ تعالیٰ نے وحی کی اور آنحضرت ﷺ نے فرمایا: لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا (التوبه : ۴۰) کہتے ہیں کہ وہ نیچے اتر کر اس کو دیکھنے بھی گئے۔مگر خدا تعالیٰ کی قدرت ہے کہ غار کے منہ پر مکڑی نے جالاتن دیا تھا۔اسے دیکھ کر ایک نے کہا کہ یہ جالا تو آنحضرت ﷺ کی پیدائش سے بھی پہلے کا ہے۔اس لیے وہ واپس چلے آئے۔یہی وجہ ہے کہ جوا کثرا کا بر عنکبوت سے محبت کرتے آئے ہیں۔غرض جیسے آنحضرت ﷺ نے باوجود ایک گروہ کثیر کے اس وقت ابو بکر ہی کو ساتھ لینا پسند کیا اسی طرح پر حضرت عیسی نے صرف تھوما کو ساتھ لے لیا اور چلے آئے۔پس جب حواری ان کے ساتھ تھے تو پھر کوئی اعتراض نہیں رہتا۔دوسرا سوال اس پر یہ کرتے ہیں کہ جب کہ وہ ستاسی سال تک زندہ رہے تو ان کی قوم نے ترقی کیوں نہ کی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس کا ثبوت دینا ہمارے ذمہ نہیں۔ہم کہتے ہیں ترقی کی ہوگی لیکن حوادث روز گار نے ہلاک کر دیا ہو گا۔کشمیر میں اکثر زلزلے اور سیلاب آتے رہتے ہیں۔مدت دراز کے بعد قوم بگڑ گئی لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں ہو سکتا کہ وہ ایک قوم تھی۔اوَيْنَهُمَا إِلَى رَبِّوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّمَعِينٍ (المومنون: ۵۱) کے متعلق بعض کہتے ہیں کہ وہ شام ہی میں تھا۔میں کہتا ہوں یہ بالکل غلط ہے۔قرآن شریف خود اس کے