فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 217 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 217

لیکچر سیالکوٹ 217 فلسطین سے کشمیر تک تھیں۔ڈاک کا عمدہ انتظام ہو گیا تھا۔فوجی انتظام میں بہت صلاحیت پیدا ہوگئی تھی اور مسافروں کے آرام کے لئے بہت کچھ باتیں ایجاد ہوگئی تھیں اور پہلے کی نسبت قانون معدلت نہایت صاف ہو گیا تھا۔ایسا ہی میرے وقت میں دنیا کے آرام کے اسباب بہت ترقی کر گئے ہیں۔یہاں تک کہ ریل کی سواری پیدا ہوگئی جس کی خبر قرآن شریف میں پائی جاتی ہے۔باقی امور کو پڑھنے والا خود سمجھ لے۔(۱۶) سولہویں خصوصیت حضرت مسیح میں یہ تھی کہ بن باپ ہونے کی وجہ سے حضرت آدم سے وہ مشابہ تھے ایسا ہی میں بھی تو ام پیدا ہونے کی وجہ سے حضرت آدم سے مشابہ ہوں اور اس قول کے مطابق جو حضرت محی الدین ابن عربی لکھتے ہیں کہ خاتم الخلفاء صینی الاصل ہوگا یعنی مغلوں میں سے اور وہ جوڑہ یعنی توام پیدا ہوگا۔پہلے لڑکی نکلے گی بعد اس کے وہ پیدا ہوگا۔ایک ہی وقت میں اسی طرح میری پیدائش ہوئی کہ جمعہ کی صبح کو بطور توام میں پیدا ہوا۔اول لڑکی اور بعدہ میں پیدا ہوا۔نہ معلوم کہ یہ پیشگوئی کہاں سے ابن عربی صاحب نے لی تھی جو پوری ہوگئی۔ان کی کتابوں میں اب تک یہ پیشگوئی موجود ہے۔یہ سولہ مشابہتیں ہیں جو مجھ میں اور مسیح میں ہیں۔اب ظاہر ہے کہ اگر یہ کا روبار انسان کا ہوتا تو مجھ میں اور مسیح ابن مریم میں اس قدر مشابہت ہرگز نہ ہوتی۔( تذکرۃ الشہا دتین۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 25 تا 35 ) وإن مرهم عيسى آية بيّنة على موته، فما لهم لا يفكرون في هذه الآية ولا به ينتفعون؟ علامات المقربين، تذکرۃ الشہادتین۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 124) لیکچر سیالکوٹ (1904ء) پھر ماسوائے اس کے اگر یہ بات صحیح ہے کہ آیت بَلْ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ * کے یہی معنی ہیں کہ حضرت عیسی آسمان دوم کی طرف اُٹھائے گئے تو پھر پیش کرنا چاہئے کہ اصل متنازعہ فیہ امر کا فیصلہ کس آیت میں بتلایا گیا ہے۔یہودی جواب تک زندہ اور موجود ہیں وہ تو حضرت مسیح النساء: 159