فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 216
تذكرة الشهادتين 216 فلسطین سے کشمیر تک جس دن مجھ کو خون کے مقدمہ سے خدا تعالیٰ نے رہائی بخشی۔اور اس پیشگوئی کے موافق جو میں خدا سے وحی یقینی پا کر صد ہا لوگوں میں شائع کر چکا تھا مجھ کو کبری فرمایا اس دن میرے ساتھ ایک عیسائی چور بھی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔یہ چور عیسائیوں کی مقدس جماعت مکتی فوج میں سے تھا جس نے کچھ روپیہ چُرا لیا تھا۔اس چور کو صرف تین مہینہ کی سزا ملی۔پہلے مسیح کے رفیق چور کی طرح سزائے موت اس کو نہیں ہوئی (۱۳) تیرھویں خصوصیت مسیح میں یہ تھی کہ جب وہ پیلاطوس گورنر کے سامنے پیش کیا گیا اور سزائے موت کی درخواست کی گئی تو پیلاطوس نے کہا کہ میں اس کا کوئی گناہ نہیں پاتا جس سے یہ سزا دوں۔ایسا ہی کپتان ڈگلس صاحب ضلع مجسٹریٹ نے میرے ایک سوال کے جواب میں مجھ کو کہا کہ میں آپ پر کوئی الزام نہیں لگاتا۔میرے خیال میں ہے کہ کپتان ڈگلس اپنی استقامت اور عادلانہ شجاعت میں پیلاطوس سے بہت بڑھ کر تھا کیونکہ پیلاطوس نے آخر کار بزدلی دکھائی اور یہودیوں کے شریر مولویوں سے ڈر گیا۔مگر ڈگلس ہرگز نہ ڈرا۔اس کو مولوی محمد حسین نے کرسی مانگ کر کہا کہ میرے پاس صاحب لفٹنٹ گورنر بہادر کی چٹھیاں ہیں مگر کپتان ڈگلس نے اس کی کچھ پروا نہ کی۔اور میں باوجودیکہ ملزم تھا مجھے گر سی دی اور اس کو گرسی کی درخواست پر جھڑک دیا اور گرسی نه دی اگر چه آسمان پر گرسی پانے والے زمین کی گرسی کے کچھ محتاج نہیں ہیں مگر یہ نیک اخلاق اس ہمارے وقت کے پیلاطوس کے ہمیشہ ہمیں اور ہماری جماعت کو یادر ہیں گے اور دنیا کے اخیر تک اس کا نام عزت سے لیا جائے گا۔(۱۴) چودھویں خصوصیت یسوع مسیح میں یہ تھی کہ وہ باپ کے نہ ہونے کی وجہ سے بنی اسرائیل میں سے نہ تھا۔مگر با ایں ہمہ موسوی سلسلہ کا آخری پیغمبر تھا۔جو موسیٰ کے بعد چودھویں صدی میں پیدا ہوا۔ایسا ہی میں بھی خاندان قریش میں سے نہیں ہوں اور چودھویں صدی میں مبعوث ہوا ہوں اور سب سے آخر ہوں۔(۱۵) پندرھویں خصوصیت حضرت مسیح میں یہ تھی کہ اُن کے عہد میں دنیا کی وضع جدید ہوگئی تھی۔سڑکیں ایجاد ہو گئی