فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 204
تحفة الندوة 204 فلسطین سے کشمیر تک نسخہ مرہم عیسی کا لکھا ہے اور ان کتابوں میں بیان کیا گیا ہے کہ یہ مرہم حضرت عیسی کے لئے یعنی اُن کے صلیبی زخموں کے لئے بنائی گئی تھی۔ازاں بعد کشمیر میں حضرت عیسی علیہ السلام کی قبر بھی پیدا ہوگئی۔پھر اس کے بعد عربی اور فارسی میں پرانی کتا میں پیدا ہوگئیں جو بعض ان میں سے ہزار برس کی تصنیف ہیں اور حضرت عیسی کی وفات کی گواہی دیتی اور قبر اُن کی کشمیر میں بتلاتی ہیں اور پھر سب کے بعد جو آج ہمیں خبر ملی یہ تو ایک ایسی خبر ہے کہ گویا آج اس نے مسلمانوں کے لئے عید کا دن چڑھا دیا ہے اور وہ یہ ہے کہ حال میں بمقام یروشلم پطرس حواری کا دستخطی ایک کاغذ پرانی عبرانی میں لکھا ہوا دستیاب ہوا ہے جس کو کتاب کشتی نوح کے ساتھ شامل کیا گیا ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح صلیب کے واقعہ سے تخمیناً پچاس برس بعد اسی زمین پر فوت ہو گئے تھے اور وہ کاغذ ایک عیسائی کمپنی نے اڑھائی لاکھ روپیہ دے کر خرید لیا ہے کیونکہ یہ فیصلہ ہو گیا ہے کہ وہ پطرس کی تحریر ہے اور ظاہر ہے کہ اس قدر ثبوتوں کے جمع ہونے کے بعد جوز بردست شہادتیں ہیں پھر اس بیہودہ اعتقاد سے جو عیسی زندہ ہے باز نہ آنا ایک دیوانگی ہے امور محسوسہ مشہودہ سے انکار نہیں ہو سکتا سو مسلمانوں تمہیں مبارک ہو آج تمہارے لئے عید کا دن ہے اُن پہلے جھوٹے عقائد کو دفع کرو اور اب قرآن کے مطابق اپنا عقیدہ بنالو۔مکرر یہ کہ یہ آخری شہادت حضرت عیسی کے سب سے بزرگ تر حواری کی شہادت ہے یہ وہ حواری ہے کہ اپنی تحریر میں جو برآمد ہوئی ہے خود اس شہادت کے لئے یہ الفاظ استعمال کرتا ہے کہ میں ابن مریم کا خادم ہوں اور اب میں نوے ۹۰ سال کی عمر میں یہ خط لکھتا ہوں جبکہ مریم کے بیٹے کو مرے ہوئے تین سال گزرچکے ہیں لیکن تاریخ سے یہ امر ثابت شدہ ہے اور بڑے بڑے مسیحی علماء اس امر کو تسلیم کرتے ہیں کہ پطرس اور حضرت عیسی کی پیدائش قریب قریب وقت میں تھی اور واقعہ صلیب کے وقت حضرت عیسی کی عمر قریباً ۳۳ سال اور حضرت پطرس کی عمر اس وقت تمہیں چالیس سال کے درمیان تھی ( دیکھو کتاب منتھس ڈکشنری جلد ۳ صفحہ ۲۴۴۶ و موٹی ٹیولس نیوٹسٹیمنٹ ہسٹری و دیگر کتب تاریخ ) اور اس خط کے متعلق اکابر علماء منذ ہب عیسوی نے بہت تحقیقات کر کے یہ فیصلہ کیا ہے کہ یہ میچ ہے اور اس کیلئے بڑی خوشی کا اظہار کیا ہے اور جیسا