فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 203 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 203

تحفة الندوة 203 تحفة الندوة (1902ء) تمام مسلمانوں اور تمام سچائی کے بھوکوں اور پیاسوں کے لئے ایک بڑی خوشخبری فلسطین سے کشمیر تک حضرت عیسی علیہ السلام جن کی خارق عادت زندگی اور خلاف نصوص قرآنیہ مع جسم آسمان پر چلے جانا اور باوجو د وفات یافتہ نہ ہونے کے پھر وفات یافتہ نبیوں کی روحوں میں جو ایک رنگ سے بہشت میں داخل ہو چکے داخل ہو جانا یہ تمام ایسی باتیں تھیں کہ در حقیقت بچے مذہب کے لئے ایک داغ تھا اور نیز مدت دراز سے مغربی مخلوق پرستوں کا موحدین اہلِ اسلام کے ذمہ ایک قرضہ چلا آتا تھا اور نادان مسلمانوں نے بھی اس قرضہ کا اقرار کر کے اپنے ذمہ ایک بڑی سودی رقم عیسائیوں کی بڑھا دی تھی جس کی وجہ سے کئی لاکھ مسلمان اس ملک ہند میں ارتداد کا جامہ پہن کر عیسائیوں کے ہاتھ میں گرو پڑ گئے تھے اور کوئی صورت ادائے قرضہ کی نظر نہ آتی تھی۔جب عیسائی کہا کرتے تھے کہ ربنا یسوع مسیح آسمان پر زندہ مع جسم چڑھ گیا بڑی طاقت دکھلائی خدا جو تھا مگر تمہارا نبی تو ہجرت کرنے کے بعد مدینہ تک بھی پرواز کر کے نہ جا سکا غار ثور میں ہی تین دن تک چھپارہا آخر بڑی مشکل سے مدینہ تک پہنچا اور پھر بھی عمر نے وفا نہ کی دس برس کے بعد فوت ہو گیا اور اب وہ قبر میں اور زیر زمین ہے مگر یسوع مسیح زندہ آسمان پر ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا اور وہی دوبارہ آسمان سے اتر کر دنیا کا انصاف کرے گا۔ہر ایک جو اس کو خدا نہیں جانتاوہ پکڑا جائے گا اور آگ میں ڈالا جائے گا۔اس کا جواب مسلمانوں کو کچھ بھی نہیں آتا نہایت شرمندہ اور ذلیل ہوتے تھے اب یسوع مسیح کی خوب خدائی ظاہر ہوئی۔آسمان پر چڑھنے کا سارا بھانڈا پھوٹ گیا۔اوّل تو ہزار نسخہ سے زیادہ ایسی طبی کتابیں جن کو پُرانے زمانہ میں رومیوں یونانیوں مجوسیوں عیسائیوں اور سب سے بعد مسلمانوں نے بھی ان کا ترجمہ کیا تھا پیدا ہوگئیں جن میں ایک