فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 182
182 فلسطین سے کشمیر تک گفر ورر نے یوحنا باب ۲۰۔آیت ۷ کی مشہور آیت کی عجیب تفسیر کی ہے۔وہ لکھتا ہے کہ مسیح کا جو یہ فقرہ ہے کہ میں ابھی اپنے باپ کے پاس نہیں گیا اس فقرہ میں آسمان پر جانے سے مراد صرف مرنا ہے اور یسوع نے جو یہ کہا کہ مجھے نہ چھوڑ کیونکہ میں ابھی تک گوشت اور خون ہوں۔اس میں گوشت اور خون ہونے سے بھی یہی مراد ہے کہ میں ابھی مرا نہیں۔یسوع اس واقعہ کے بعد پوشیدہ طور پر کئی دفعہ اپنے حواریوں کو ملا اور جب اُسے یقین ہو گیا کہ اس موت نے اُس کے کام کی صداقت پر آخری مہر لگادی ہے تو وہ پھر کسی نا قابل حصول تنہائی میں چلا گیا۔دیکھو کتاب سو پر نیچرل ریچن صفحه ۵۲۳ - اور یا در ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی موت کے مسئلہ کو مسلمان عیسائیوں سے زیادہ سمجھ سکتے ہیں کیونکہ قرآن شریف میں اُس کی موت کا بار بار ذکر ہے۔لیکن بعض نادانوں کو یہ دھوک لگا ہوا ہے کہ اس آیت قرآن شریف میں یعنی وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ * میں لفظ شُبہ سے مراد یہ ہے کہ حضرت عیسی کی جگہ کسی اور کو سولی دیا گیا اور وہ خیال نہیں کرتے کہ ہر ایک شخص کو اپنی جان پیاری ہوتی ہے پس اگر کوئی اور شخص حضرت عیسی کی جگہ صلیب دیا جاتا تو صلیب دینے کے وقت ضرور وہ شور مچاتا کہ میں تو عیسی نہیں ہوں۔اور کئی دلائل اور کئی امتیازی اسرار پیش کر کے ضرور اپنے تئیں بچالیتا نہ یہ کہ بار بار ایسے الفاظ منہ پر لاتا جن سے اس کا عیسی ہونا ثابت ہوتا۔رہا لفظ شُبِّهَ لَهُمُ۔سواس کے وہ معنے نہیں ہیں جو سمجھے گئے ہیں اور نہ ان معنوں کی تائید میں قرآن اور احادیث نبویہ سے کچھ پیش کیا گیا ہے بلکہ یہ معنی ہیں کہ موت کا وقوعہ یہودیوں پر مشتبہ کیا گیا وہ یہی سمجھ بیٹھے کہ ہم نے قتل کر دیا ہے حالانکہ مسیح قتل ہونے سے بچ گیا۔میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہ سکتا ہوں کہ اس آیت میں شُبّه لَهُمُ کے یہی معنے ہیں اور یہ سنت اللہ ہے۔خدا جب اپنے محبوبوں کو بچانا چاہتا ہے تو ایسے ہی دھوکا میں مخالفین کو ڈال دیتا ہے۔ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب غار ثور میں پوشیدہ ہوئے تو وہاں بھی ایک قسم کے شُبِّهَ لَهُمْ سے خدا نے کام لیا یعنی مخالفین کو اس دھوکا میں ڈال دیا کہ انہوں نے خیال کیا کہ اس غار کے منہ پر عنکبوت نے اپنا جالا بنا ہوا ہے اور کبوتری نے انڈے دے رکھے ہیں۔پس کیونکر ممکن النساء : 158