فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 181 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 181

181 فلسطین سے کشمیر تک پہلی تفسیر جو بعض لائق محققین نے کی ہے وہ یہ ہے کہ یسوع دراصل صلیب پر نہیں مرا بلکہ صلیب سے زندہ اتار کر اس کا جسم اس کے دوستوں کے حوالہ کیا گیا اور وہ آخر بیچ نکلا۔اس عقیدہ کی تائید میں یہ دلائل پیش کئے جاتے ہیں کہ اناجیل کے بیان کے مطابق یسوع صلیب پر تین گھنٹے یا چھ گھنٹہ رہ کر فوت ہوا۔لیکن صلیب پر ایسی جلدی کی موت کبھی پہلے واقع نہیں ہوئی تھی۔یہ بھی تسلیم کیا جاتا ہے کہ صرف اس کے ہاتھوں پر میخیں ماری گئی تھیں۔اور پاؤں پر میخیں نہیں لگائی گئی تھیں۔چونکہ یہ عام قائدہ نہ تھا کہ ہر ایک مصلوب کی ٹانگ توڑی جائے اس واسطے تین انجیل نویسوں نے تو اس کا کچھ ذکر ہی نہیں کیا۔اور چوتھے نے بھی صرف اپنے طرز بیان کی تکمیل کی خاطر اس امر کا بیان کیا اور جہاں ٹانگ توڑنے کا ذکر نہیں ہے تو ساتھ ہی برچھی کا واقعہ بھی کالعدم ہو جاتا ہے پس ظاہر اموت جو واقع ہوئی وہ ایک سخت بیہوشی تھی جو کہ چھ گھنٹہ کے جسمانی اور دماغی صدموں کے بعد اس کے جسم پر پڑی کیونکہ گذشتہ شب بھی متواتر تکلیف اور تھکاوٹ میں گذری تھی جب اُسے کا فی صحت پھر حاصل ہو گئی۔تو اپنے حواریوں کو پھر یقین دلانے کے واسطے کئی دفعہ ملا۔لیکن یہودیوں کے سبب نہایت احتیاط کی جاتی تھی۔حواریوں نے اس وقت یہ سمجھا کہ یہ مر کر زندہ ہوا ہے۔اور چونکہ موت کی سی بیہوشی تک پہنچ کر وہ پھر بحال ہوا اس واسطے ممکن ہے کہ اُس نے آپ بھی دراصل یہی سمجھا ہو کہ میں مرکر پھر زندہ ہوا ہوں اب جب اُستاد نے دیکھا کہ اس موت نے میرے کام کی تکمیل کر دی ہے تو وہ پھر کسی نا قابل حصول اور نامعلوم تنہائی کی جگہ میں چلا گیا اور مفقودالخبر ہو گیا۔گفر وررجس نے شنٹور کے اس مسئلہ کی نہایت قابلیت کے ساتھ تائید کی ہے۔وہ لکھتا ہے کہ یہود کے حکام کے درمیان یسوع کے مرید تھے جو کہ اس کو اگر چہ اس مخالفت سے بچا نہیں سکتے تھے تاہم ان کو امید تھی کہ ہم اس کو مرنے سے بچالیں گے۔یوسف ایک دولتمند آدمی تھا۔اور اُسے مسیح کے بچانے کے وسائل مل گئے۔نئی قبر بھی اس مقام صلیب کے قریب ہی اُس نے طیار کرالی اور جسم بھی پلاطوس سے مانگ لیا۔اور نکو میڈس جو بہت سے مصالح خرید لایا تھا تو وہ صرف یہود کی توجہ ہٹانے کے واسطے تھے اور یسوع کو جلدی سے قبر میں رکھا گیا۔اور ان لوگوں کی سعی سے وہ بچ گیا۔