فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 176 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 176

فلسطین سے کشمیر تک 176 immediately taken down and carefully attended to, one was really saved, but two others could not be recovered۔(A new life of Jesus by D۔F۔Strauss۔Vol I۔page 410) ترجمہ :۔وہ یہ دلائل دیتے ہیں کہ اگر چہ صلیب کے وقت ہاتھ اور پاؤں دونوں میں میخیں ماری جائیں پھر بھی بہت تھوڑا خون انسان کے بدن سے نکلتا ہے۔اس واسطے صلیب پر لوگ رفتہ رفتہ اعضاء پر زور پڑنے کے سبب تشیخ میں گرفتار ہو کر مر جاتے ہیں یا بھوک سے مر جاتے ہیں۔پس اگر فرض بھی کر لیا جائے کہ قریب ۶ گھنٹہ صلیب پر رہنے کے بعد یسوع جب اتارا گیا تو وہ مرا ہوا تھا۔تب بھی نہایت ہی اغلب بات یہ ہے کہ وہ صرف ایک موت کی سی بیہوشی تھی اور جب شفا دینے والی مرہمیں اور نہایت ہی خوشبودار دوائیاں مل کر اُسے غار کی ٹھنڈی جگہ میں رکھا گیا تو اُس کی بیہوشی دُور ہوئی۔اس دعوے کی دلیل میں عموماً یوسفس کا واقعہ پیش کیا جاتا ہے جہاں یوسفس نے لکھا ہے کہ میں ایک دفعہ ایک فوجی کام سے واپس آرہا تھا تو راستہ میں میں نے دیکھا کہ کئی ایک یہودی قیدی صلیب پر لٹکے ہوئے ہیں۔ان میں سے میں نے پہچانا کہ تین میرے واقف تھے۔پس میں نے ٹیٹس (حاکم وقت) سے اُن کے اُتار لینے کی اجازت حاصل کی اور اُن کو فوراً اتار کر اُن کی خبر گیری کی تو ایک بالآخر تندرست ہو گیا پر باقی دو مر گئے۔“ اور کتاب ماڈرن ڈاوٹ اینڈ کرسچن بیلیف کے صفحہ ۳۴۷٫۴۵۷,۴۵۵ میں یہ عبارت ہے:- The former of these hypotheses that of apparent death, was employed by the old Rationalists, and more recently by Schleiermacher in his life of Christ Schleiermacher's supposition۔That Jesus Modern Doubt and Christian Belief by Theodore Christlieb۔D۔D۔