فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 159
تریاق القلوب 159 فلسطین سے کشمیر تک وَقُلُو اتقتيلا یعنی زنا کار اور زنا کاری کی اشاعت کرنے والے جو مدینہ میں ہیں یہ لعنتی ہیں یعنی ہمیشہ کے لئے خدا کی رحمت سے رڈ کئے گئے اس لئے یہ اس لائق ہیں کہ جہاں ان کو پاؤ قتل کر دو۔پس اس آیت میں اس بات کی طرف یہ عجیب اشارہ ہے کہ لعنتی ہمیشہ کے لئے ہدایت سے محروم ہوتا ہے اور اس کی پیدائش ہی ایسی ہوتی ہے جس پر جھوٹ اور بدکاری کا جوش غالب رہتا ہے۔اور اسی بنا پر قتل کرنے کا حکم ہوا کیونکہ جو قابل علاج نہیں اور مرض متعدی رکھتا ہے اس کا مرنا بہتر ہے۔اور یہی توریت میں لکھا ہے کہ لعنتی ہلاک ہو گا۔علاوہ اس کے ملعون کے لفظ میں یہ کس قدر پلید معنی مندرج ہیں کہ عربی اور عبرانی زبان کی رُو سے ملعون ہونے کی حالت میں ان لوازم کا پایا جانا ضروری ہے کہ شخص ملعون اپنی دلی خواہش سے خدا تعالیٰ سے بیزار ہو اور خدا تعالیٰ اس سے بیزار ہو اور وہ خدا تعالیٰ سے اپنے دلی جوش کے ساتھ دشمنی رکھے اور ایک ذرہ محبت اور تعظیم اللہ جل شانه کی اُس کے دل میں نہ ہو۔اور ایسا ہی خدا تعالیٰ کے دل میں بھی ایک ذرہ اُس کی محبت نہ ہو یہاں تک کہ وہ شیطان کا وارث ہو نہ خدا کا۔اور یہ بھی لعنتی ہونے کے لوازم میں سے ہے کہ شخص ملعون خدا تعالیٰ کی شناخت اور معرفت اور محبت سے بکلی بے نصیب ہو۔اب ظاہر ہے کہ یہ لعنت اور ملعون ہونے کی حالت کا مفہوم ایسا نا پاک مفہوم ہے کہ ایک ادنیٰ سے ادنی ایماندار کی طرف منسوب نہیں ہو سکتا چہ جائیکہ حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت اس کو منسوب کیا جائے کیونکہ ملعون ہونے سے مراد وہ سخت دلی کی تاریکی ہے جس میں ایک ذرہ خدا کی معرفت کا نور خدا کی محبت کا نور خدا کی تعظیم کا نور باقی نہ ہو۔پس کیا روا ہے کہ ایسے مردار کی سی حالت ایک سیکنڈ کے لئے بھی مسیح جیسے راستباز کی طرف منسوب کی جائے۔کیا نور اور تاریکی دونوں جمع ہو سکتی ہیں۔لہذا اس سے صاف طور پر ثابت ہوتا ہے کہ عیسائی مذہب کے یہ عقائد سراسر باطل ہیں۔نیک دل انسان ایسی نجات سے بیزار ہو گا جس کی اوّل شرط یہی ہو کہ ایک پاک اور معصوم اور خدا کے پیارے کی نسبت یہ اعتقا درکھا جائے کہ وہ ملعون ہو گیا اور اُس کا دِل عمد أخدا سے برگشتہ ہو گیا اور اس کے سینہ میں سے خدا شناسی کا نور جاتا رہا اور وہ شیطان کی طرح خدا تعالیٰ کا دشمن ہو گیا۔اور خدا سے بیزار ہو گیا الاحزاب : 62