فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 138
138 فلسطین سے کشمیر تک مسیح ہندوستان میں منسوب نہیں کر سکتے جو خود اس کی نصیحتوں کے بھی برخلاف ہے۔لہذا اس قرینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قصہ غلط ہے۔اور در حقیقت را حولتا سے مراد حضرت عیسی ہیں جن کا نام روح اللہ ہے اور روح اللہ کا لفظ عبرانی زبان میں را حولتا سے بہت مشابہ ہو جاتا ہے اور را حولتا یعنی روح اللہ کو بدھ کا شاگر د اسی وجہ سے قرار دیا گیا ہے جس کا ذکر ا بھی ہم کر چکے ہیں۔یعنی مسیح جو بعد میں آکر بدھ کے مشابہ تعلیم لایا۔اس لئے بدھ مذہب کے لوگوں نے اس تعلیم کا اصل منبع بدھ کو قرار دے کر مسیح کو اس کا شاگرد قرار دے دیا۔اور کچھ تعجب نہیں کہ بدھ نے خدا تعالیٰ سے الہام پا کر حضرت مسیح کو اپنا بیٹا بھی قرار دیا ہو۔اور ایک بڑا قرینہ اس جگہ یہ ہے کہ اسی کتاب میں لکھا ہے کہ جب را حولتا کو اس کی والدہ سے علیحدہ کیا گیا تو ایک عورت جو بدھ کی مرید تھی جس کا نام مگر الیانا تھا اس کام کے لئے درمیان میں اینچی بنی تھی۔اب دیکھو مگدالیانا کا نام در حقیقت مگر لینی سے بگاڑا ہوا ہے۔اور مگد لینی ایک عورت حضرت عیسی علیہ السلام کی مرید تھی جس کا ذکر انجیل میں موجود ہے۔یہ تمام شہادتیں جن کو ہم نے مجملاً لکھا ہے ہر ایک منصف کو اس نتیجہ تک پہنچاتی ہیں کہ ضرور حضرت عیسی علیہ السلام اس ملک میں تشریف لائے تھے اور قطع نظر ان تمام روشن شہادتوں کے بدھ مذہب اور عیسائی مذہب میں تعلیم اور رسوم کے لحاظ سے جس قدر باہمی تعلقات ہیں بالخصوص تبت کے حصہ میں یہ امرایسا نہیں ہے کہ ایک دانشمند سہل انگاری سے اس کو دیکھے۔بلکہ یہ مشابہت یہاں تک حیرت انگیز ہے کہ اکثر محقق عیسائیوں کا یہ خیال ہے کہ بدھ مذہب مشرق کا عیسائی مذہب ہے اور عیسائی مذہب کو مغرب کا بُدھ مذہب کہہ سکتے ہیں۔دیکھو کس قدر عجیب بات ہے کہ جیسے مسیح نے کہا کہ میں نور ہوں میں راہ ہدایت ہوں یہی بدھ نے بھی کہا ہے۔اور انجیلوں میں مسیح کا نام نجات دہندہ ہے بدھ نے بھی اپنا نام منجی ظاہر کیا ہے۔دیکھولتا وسترا اور انجیل میں مسیح کی پیدائش بغیر باپ کے بیان کی گئی ہے ایسا ہی بدھ کے سوانح میں ہے کہ دراصل وہ بغیر باپ کے پیدا ہوا تھا گو بظاہر حضرت مسیح کے باپ یوسف کی طرح اس کا بھی باپ تھا۔یہ بھی لکھا ہے کہ بدھ کی پیدائش کے وقت ایک ستارہ نکلا تھا۔اور سلیمان کا قصہ جو اس نے حکم دیا تھا کہ اس بچے کو آدھا آدھا کر