فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 127
مسیح ہندوستان میں 127 فلسطین سے کشمیر تک چنانچہ آگے چل کر ہم اس بات کا ثبوت دیں گے کہ یہ اخلاقی تعلیم کا حصہ جو بدھ مذہب کی کتابوں میں انجیل کے مطابق پایا جاتا ہے اور یہ خطابات نور وغیرہ جو مسیح کی طرح بدھ کی نسبت لکھے ہوئے ثابت ہوتے ہیں اور ایسا ہی شیطان کا امتحان یہ سب امور اس وقت بدھ مذہب کی پستکوں میں لکھے گئے تھے جبکہ حضرت مسیح اس ملک میں صلیبی تفرقہ کے بعد تشریف لائے تھے۔اور پھر ایک اور مشابہت بُدھ کی حضرت مسیح سے پائی جاتی ہے کہ بدھ ازم میں لکھا ہے کہ بدھ ان ایام میں جو شیطان سے آزمایا گیا روزے رکھتا تھا اور اس نے چالیس روزے رکھے۔اور انجیل پڑھنے والے جانتے ہیں کہ حضرت مسیح نے بھی چالیس روزے رکھے تھے۔اور جیسا کہ ابھی میں نے بیان کیا ہے بدھ اور مسیح کی اخلاقی تعلیم میں اس قدر مشابہت اور مناسبت ہے کہ ہر ایک ایسا شخص تعجب کی نظر سے دیکھے گا جو دونوں تعلیموں پر اطلاع رکھتا ہو گا۔مثلاً انجیلوں میں لکھا ہے کہ شر کا مقابلہ نہ کرو۔اور اپنے دشمنوں سے پیار کرو اور غربت سے زندگی بسر کرو اور تکبر اور جھوٹ اور لالچ سے پر ہیز کرو اور یہی تعلیم بدھ کی ہے۔بلکہ اس میں اس سے زیادہ شد و مد ہے یہاں تک کہ ہر ایک جانور بلکہ کیڑوں مکوڑوں کے خون کو بھی گناہ میں داخل کیا ہے بدھ کی تعلیم میں بڑی بات یہ بتلائی گئی ہے کہ تمام دنیا کی غم خواری اور ہمدردی کرو اور تمام انسانوں اور حیوانوں کی بہتری چاہو اور باہم اتفاق اور محبت پیدا کرو۔اور یہی تعلیم انجیل کی ہے۔اور پھر جیسا کہ حضرت مسیح نے مختلف ملکوں کی طرف اپنے شاگردوں کو روانہ کیا اور آپ بھی ایک ملک کی طرف سفر اختیار کیا۔یہ باتیں بدھ کے سوانح میں بھی پائی جاتی ہیں۔چنانچہ بدھ ازم مصنفہ سر مونیر ولیم * میں لکھا ہے کہ بدھ نے اپنے شاگردوں کو دنیا میں تبلیغ کے لئے بھیجا اور ان کو اس طرح پر خطاب کیا۔باہر جاؤ اور ہر طرف پھر نکلو اور دنیا کی غمخواری اور دیوتاؤں اور آدمیوں کی بہتری کے لئے ایک ایک ہو کر مختلف صورتوں میں نکل جاؤ اور یہ منادی کرو کہ کامل پر ہیز گار بنو۔پاک دل بنو۔برہم چاری یعنی تنہا اور مجرد رہنے کی خصلت اختیار کرو۔اور کہا کہ میں بھی اس مسئلہ کی منادی کے لئے جاتا ہوں۔اور بدھ بنارس کی طرف گیا اور Buddhism by Sir Monier williams