فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 126
مسیح ہندوستان میں 126 فلسطین سے کشمیر تک طرف منسوب کر دیئے تھے۔یہاں تک کہ وہ تمام قصہ بدھ کا جس میں وہ شیطان سے آزمایا گیا اپنا قصہ قرار دے دیا۔لیکن یہ آریوں کی غلطی اور خیانت ہے یہ بات ہرگز صحیح نہیں ہے کہ حضرت مسیح صلیب کے واقعہ سے پہلے ہندوستان کی طرف آئے تھے اور نہ اس وقت کوئی ضرورت اس سفر کی پیش آئی تھی بلکہ یہ ضرورت اس وقت پیش آئی جب کہ بلا دشام کے یہودیوں نے حضرت مسیح کو قبول نہ کیا اور ان کو اپنے زعم میں صلیب دے دیا جس سے خدائے تعالیٰ کی باریک حکمت عملی نے حضرت مسیح کو بچالیا۔تب وہ اس ملک کے یہودیوں کے ساتھ حق تبلیغ اور ہمدردی ختم کر چکے اور باعث اس بدی کے ان یہودیوں کے دل ایسے سخت ہو گئے کہ وہ اس لائق نہ رہے کہ سچائی کو قبول کریں اس وقت حضرت مسیح نے خدائے تعالیٰ سے یہ اطلاع پا کر کہ یہودیوں کے دس گم شدہ فرقے ہندوستان کی طرف آگئے ہیں ان ملکوں کی طرف قصد کیا۔اور چونکہ ایک گروہ یہودیوں کا بُدھ مذہب میں داخل ہو چکا تھا اس لئے ضرور تھا کہ وہ نبی صادق بدھ مذہب کے لوگوں کی طرف توجہ کرتا۔سواس وقت بدھ مذہب کے عالموں کو جو مسیحایدھ کے منتظر تھے یہ موقع ملا کہ انہوں نے حضرت مسیح کے خطابات اور ان کی بعض اخلاقی تعلیمیں جیسا کہ یہ کہ اپنے دشمنوں سے پیار کرو اور بدی کا مقابلہ نہ کرو“۔اور نیز حضرت مسیح کا بگوا یعنی گورا رنگ ہونا جیسا کہ گوتم بدھ نے پیشگوئی میں بیان کیا تھا یہ سب علامتیں دیکھ کر ان کو بدھ قرار دے دیا۔اور یہ بھی ممکن ہے کہ مسیح کے بعض واقعات اور خطابات اور تعلیمیں اسی زمانہ میں گوتم بدھ کی طرف بھی عمداً یا سہواً منسوب کر دیئے گئے ہوں کیونکہ ہمیشہ ہندو تاریخ نویسی میں بہت کچے رہے ہیں۔اور بدھ کے واقعات حضرت مسیح کے زمانہ تک قلمبند نہیں ہوئے تھے اس لئے بدھ کے عالموں کو بڑی گنجائش تھی کہ جو کچھ چاہیں بُدھ کی طرف منسوب کر دیں سو یہ قرین قیاس ہے کہ جب انہوں نے حضرت مسیح کے واقعات اور اخلاقی تعلیم سے اطلاع پائی تو ان امور کو اپنی طرف سے اور کئی باتیں ملا کر بدھ کی طرف منسوب کر دیا ہو گا۔☆ نوٹ : ہم اس سے انکار نہیں کر سکتے کہ بدھ مذہب میں قدیم سے ایک بڑا حصہ اخلاقی تعلیم کا موجود ہے مگر ساتھ اس کے ہم یہ بھی کہتے ہیں اس میں سے وہ حصہ بعینہ انجیل کی تعلیم اور انجیل کی مثالیں اور انجیل کی عبارتیں ہیں یہ حصہ بلاشبہ اُس وقت بدھ مذہب کی کتابوں میں ملایا گیا ہے جبکہ حضرت مسیح اس ملک میں پہنچے۔منہ