فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 109
مسیح ہندوستان میں ہے۔109 فلسطین سے کشمیر تک كان عيسى ابن مريم يسيح فاذا امسى اكل بقل الصحراء و يشرب الماء القراح یعنی حضرت عیسی علیہ السلام ہمیشہ سیاحت کیا کرتے تھے اور ایک ملک سے دوسرے ملک کی طرف سیر کرتے تھے اور جہاں شام پڑتی تھی تو جنگل کے بقولات میں سے کچھ کھاتے تھے اور خالص پانی پیتے تھے۔اور پھر اسی کتاب میں عبداللہ بن عمر سے روایت ہے جس کے یہ لفظ ہیں۔قال احب شيء الى الله الغرباء قيل اى شيء الغرباء، قال الذين يفرون بدينهم و يجتمعون الى عيسى ابن مریم یعنی فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پیارے خدا کی جناب میں وہ لوگ ہیں جو غریب ہیں۔پوچھا گیا کہ غریب کے کیا معنی ہیں کہا وہ لوگ ہیں جو عیسی مسیح کی طرح دین لے کر اپنے ملک سے بھاگتے ہیں۔۔مسیح ہندوستان میں۔روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 50 تا 56) تیسر اباب ان شہادتوں کے بیان میں جو طبابت کی کتابوں میں سے لی گئی ہیں دکھ ایک اعلیٰ درجہ کی شہادت جو حضرت مسیح کے صلیب سے بچنے پر ہم کو ملی ہے اور جو ایسی شہادت ہے کہ بجز ماننے کے کچھ بن نہیں پڑتا وہ ایک نسخہ ہے جس کا نام مرہم عیسی ہے جو طب کی صدہا کتابوں میں لکھا ہوا پایا جاتا ہے۔ان کتابوں میں سے بعض ایسی ہیں جو عیسائیوں کی تالیف ہیں اور بعض ایسی ہیں کہ جن کے مؤلف مجوسی یا یہودی ہیں۔اور بعض کے بنانے والے مسلمان ہیں۔اور اکثر ان میں بہت قدیم زمانہ کی ہیں۔تحقیق سے ایسا معلوم ہوا ہے کہ اول زبانی طور پر اس نسخہ کا لاکھوں انسانوں میں شہرہ ہو گیا اور پھر لوگوں نے اس نسخہ کو قلمبند کر لیا۔پہلے رومی زبان میں حضرت مسیح کے زمانہ میں ہی کچھ تھوڑا عرصہ واقعہ صلیب کے بعد ایک قرابادین تالیف ہوئی جس میں یہ نسخہ تھا اور جس میں یہ بیان کیا گیا تھا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی چوٹوں کے لئے یہ نسخہ بنایا گیا تھا۔پھر وہ قرابادین کئی مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوئی یہاں تک کہ مامون رشید کے زمانہ میں عربی زبان میں اس جلد دوم صفحه ای - جلد چھ صفحه ۵۱ كنز العمال في سنن الاقوال والافعال للشيخ علاء الدين على المتقى بن حسام الدين الهندى مطبع دائرة