فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 89
مسیح ہندوستان میں 89 فلسطین سے کشمیر تک ہوگا کہ ان میں حضرت مسیح علیہ السلام نے صاف طور پر کہہ دیا ہے کہ یہودیوں نے جس قدر نبیوں کے خون کئے ان کا سلسلہ ذکر یا نبی تک ختم ہو گیا۔اور بعد اس کے یہودی لوگ کسی نبی کے قتل کرنے کیلئے قدرت نہیں پائیں گے۔یہ ایک بڑی پیشگوئی ہے اور اس سے نہایت صفائی کے ساتھ یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب کے ذریعہ سے قتل نہیں ہوئے بلکہ صلیب سے بچ کر نکل گئے اور آخر طبعی موت سے فوت ہوئے۔کیونکہ اگر یہ بات صحیح ہوتی کہ حضرت مسیح علیہ السلام بھی ذکریا کی طرح یہودیوں کے ہاتھ سے قتل ہونے والے تھے تو ان آیات میں حضرت مسیح علیہ السلام ضرور اپنے قتل کئے جانے کی طرف بھی اشارہ کرتے۔اور اگر یہ کہو کہ گو حضرت مسیح علیہ السلام بھی یہودیوں کے ہاتھ سے مارے گئے۔لیکن ان کا مارا جانا یہودیوں کے لئے کوئی گناہ کی بات نہیں تھی کیونکہ وہ بطور کفارہ کے مارے گئے تو یہ خیال صحیح نہیں ہے کیونکہ یوحنا باب ۱۹ آیت 11 میں مسیح نے صاف طور پر کہہ دیا ہے کہ یہودی مسیح کے قتل کرنے کے ارادہ سے سخت گناہ گار ہیں۔اور ایسا ہی اور کئی مقامات میں اسی امر کی طرف اشارہ ہے۔اور صاف لکھا ہے کہ اس جرم کی عوض میں جو مسیح کی نسبت ان سے ظہور میں آیا خدا تعالیٰ کے نزدیک قابل سزا ٹھہر گئے تھے۔دیکھو انجیل متی باب ۲۶ آیت ۲۴۔اور منجملہ ان انجیلی شہادتوں کے جو ہم کوملی ہیں انجیل متی کی وہ عبارت ہے جو ذیل میں لکھی جاتی ہے۔میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ ان میں سے جو یہاں کھڑے ہیں بعضے ہیں کہ جب تک ابن آدم کو اپنی بادشاہت میں آتے دیکھ نہ لیں موت کا مزہ نہ چکھیں گئے“۔دیکھوانجیل متی باب ۱۶ آیت ۲۸۔ایسا ہی انجیل یوحتا کی یہ عبارت ہے۔یسوع نے اسے کہا کہ اگر میں چاہوں کہ جب تک میں آؤں وہ (یعنی یوحنا حواری) یہیں ٹھہرے یعنی یروشلم میں۔دیکھو یوحنا باب ۲۱ آیت ۲۲ یعنی اگر میں چاہوں تو یودتا نہ مرے جب تک میں دوبارہ آؤں۔ان آیات سے بکمال صفائی ثابت ہوتا ہے کہ مسیح علیہ السلام نے وعدہ کیا تھا کہ بعض لوگ اس وقت تک زندہ رہیں گے جب تک کہ وہ پھر واپس ہو اوران زندہ رہنے والوں میں سے یوحنا کو بھی قرار دیا تھا۔سوضرور تھا کہ یہ وعدہ پورا ہوتا۔چنانچہ عیسائیوں نے بھی اس بات کو مان لیا ہے کہ یسوع کا اس زمانہ میں جبکہ بعض اہل زمانہ زندہ