فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 88 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 88

مسیح ہندوستان میں 88 فلسطین سے کشمیر تک برخلاف عام جلسوں میں اور صدہا لوگوں میں اپنا انجام بری ہونا بتلایا تھا ویسا ہی ظہور میں آیا اور بہت سے لوگوں کی قوت ایمان کا باعث ہوا۔اور نہ صرف یہی بلکہ اور بھی اس قسم کی کئی تہمتیں اور مجرمانہ صورت کے الزام میرے پر مذکورہ بالا وجوہات کی وجہ سے لگائے گئے اور عدالت تک مقدمے پہنچائے گئے۔مگر خدا نے مجھے قبل اس کے جو میں عدالت میں بلایا جاتا اپنے الہام سے اول اور آخر کی خبر دے دی۔اور ہر ایک خوفناک مقدمہ میں مجھے بری ہونے کی بشارت دی۔اس تقریر سے مدعا یہ ہے کہ بلا شبہ خدائے تعالی دعاؤں کو سنتا ہے بالخصوص جبکہ اس پر بھروسہ کرنے والے مظلوم ہونے کی حالت میں اس کے آستانہ پر گرتے ہیں تو وہ ان کی فریاد کو پہنچتا ہے اور ایک عجیب طور پر ان کی مدد کرتا ہے اور ہم اس بات کے گواہ ہیں تو پھر کیا باعث اور کیا سبب کہ مسیح کی ایسی بے قراری کی دعا منظور نہ ہوئی ؟ نہیں بلکہ منظور ہوئی اور خدا نے اس کو بچالیا۔خدا نے اس کے بچانے کے لئے زمین سے بھی اسباب پیدا کئے اور آسمان سے بھی۔یوحنا یعنی یکی نبی کو خدا نے دعا کرنے کے لئے مہلت نہ دی کیونکہ اس کا وقت آچکا تھا۔مگر مسیح کو دعا کرنے کے لئے تمام رات مہلت دی گئی اور وہ ساری رات سجدہ میں اور قیام میں خدا کے آگے کھڑا رہا۔کیونکہ خدا نے چاہا کہ وہ بیقراری ظاہر کرے۔اور اس خدا سے جس کے آگے کوئی بات ان ہونی نہیں اپنی مخلصی چاہے۔سوخدا نے اپنی قدیم سنت کے موافق اس کی دعا کو سنا۔یہودی اس بات میں جھوٹے تھے جنہوں نے صلیب دے کر یہ طعنہ مارا کہ اس نے خدا پر توکل کیا تھا کیوں خدا نے اس کو نہ چھڑایا کیونکہ خدا نے یہودیوں کے تمام منصوبے باطل کئے اور اپنے پیارے مسیح کو صلیب اور اس کی لعنت سے بچالیا اور یہودی نا مرا در ہے۔اور منجملہ انجیلی شہادتوں کے جو ہم کوملی ہیں انجیل متی کی وہ آیت ہے جو ذیل میں لکھتا ہوں۔بابل راستباز کے خون سے بر خیاہ کے بیٹے ذکریا کے خون تک جسے تم نے ہیکل اور قربان گاہ کے درمیان قتل کیا۔میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ یہ سب کچھ اس زمانہ کے لوگوں پر آوے گا۔دیکھو متی باب ۲۴ * آیت ۳۵ ۳۶۹۔اب ان آیات پر اگر نظر غور کرو تو واضح ایڈیشن اول میں سہو کتابت ہے۔درست باب 23 ہے