پردہ — Page 97
کرواتے تھے یا کیا طریق تھا۔اس بارہ میں روایت ہے کہ حضرت ام المومنین کی طبیعت کسی قدرنا سا ز رہا کرتی تھی۔آپ نے ڈاکٹر صاحب سے مشورہ فرمایا کہ اگر وہ ذرا باغ میں چلی جایا کریں تو کچھ حرج تو نہیں۔انہوں نے کہا کہ نہیں۔اس پر اعلیٰ حضرت نے فرمایا: پرده دراصل میں تو اس لحاظ سے کہ معصیت نہ ہو کبھی کبھی گھر کے آدمیوں کو اس لحاظ سے کہ شرعاً جائز ہے اور اس پر کوئی اعتراض نہیں رعایت کے ساتھ باغ میں لے جایا کرتا تھا اور میں کسی ملامت کرنے والے کی پرواہ نہیں کرتا۔حدیث شریف میں بھی آیا ہے کہ بہار کی ہوا کھاؤ۔گھر کی چار دیواری کے اندر ہر وقت بند رہنے سے بعض اوقات کئی قسم کے امراض حملہ کرتے ہیں۔علاوہ اس کے رض رض آنحضرت علیم حضرت عائشہ کو لے جایا کرتے تھے۔جنگوں میں حضرت عائشہ ساتھ ہوتی تھیں۔کے متعلق بڑی افراط تفریط ہوتی ہے۔یورپ والوں نے تفریط کی ہے اور اب ان کی تقلید سے بعض نیچری بھی اسی طرح چاہتے ہیں۔حالانکہ اس بے پردگی نے یورپ میں فسق و فجور کا دریا بہادیا ہے۔اور اس کے بالمقابل بعض مسلمان افراط کرتے ہیں کہ کبھی عورت گھر سے باہر نکلتی ہی نہیں حالانکہ ریل پر سفر کرنے کی ضرورت پیش آجاتی ہے۔غرض ہم دونوں قسم کے لوگوں کو غلطی پر سمجھتے ہیں جو افراط اور تفریط کر رہے ہیں۔“ ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 558-557) ( خطاب از مستورات جلسہ سالانہ جرمنی 23 اگست 2003ء - مطبوعه الفضل انٹرنیشنل 18 نومبر 2005ء) 97