پردہ — Page 179
جیسا کہ میں نے کہا کہ نمونے واقفاتِ تو نے ہی قائم کرنے ہیں تو آپ نہ سمجھیں کہ آپ لوگ چھوٹی ہیں۔میں نے ابھی جرمنی میں مجلس خدام الاحمدیہ کے اجتماع پر ان کو یہی کہا تھا کہ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ بڑے اپنا حق ، اپنے فرائض ادا نہیں کر رہے اور جو اسلامی تعلیم ہے اس پر عمل نہیں کر رہے اور جس طرح جماعت کی خدمت کرنی چاہئے ویسے نہیں کر رہے تو پھر نو جوان آگے آجائیں“۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ: لجنہ کی اور ناصرات کی تنظیم بھی اسی لئے بنائی گئی تھی اور اسی لئے واقفات کو کو بھی قبول کیا جارہا ہے۔واقفات تو اُس طرح تو active role ادا نہیں کرسکتیں جس طرح ہمارے وہ مبلغ ادا کر سکتے ہیں جن کو باقاعدہ ٹرینگ دے کر اور ملازمت میں لے کر بطور مبلغ بھجوایا جاتا ہے۔اور جہاں اکیلی عورت تو جا نہیں سکتی ، صرف مرد ہی جاسکتے ہیں“۔حضور انور نے فرمایا : پس جو واقفات تو بچیاں ہیں انہوں نے عورتوں میں ،لڑکیوں اور بچیوں میں اپنے نمونے قائم کرنے ہیں۔حضور انور نے فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ یہاں ایک دو 66 کے سوا باقی بچیاں دس سال سے اوپر کی ہیں۔“ حضور انور ایدہ اللہ نے مزید فرمایا: اب دس سال کی عمر ایک ایسی عمر ہے۔جو اسلام کی تعلیم کے مطابق mature( ایک سمجھ بوجھ رکھنے کی ) عمر ہے جس میں نماز ادا کرنا فرض کیا گیا ہے۔اب نما ز ایک ایسی عبادت ہے جو خدا تعالیٰ کے حضور پانچ وقت ادا کرنی ہے اور اس عبادت کو اللہ اور اس کے رسول نے دس سال کی عمر میں فرض کر دیا ہے۔تو اس کا پرده 179