پردہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 178 of 222

پردہ — Page 178

پرده سے اندازہ لگایا تھا کہ کے بارہ میں احتیاط نہیں کی جاتی۔لندن میں مجھے ایک دفعہ وقف کو بچی ملنے آئی۔اس نے جو کیا ہوا تھا اُس کے کوٹ کے بازو یہاں کہنیوں تک تھے۔ایسے کا تو کوئی فائدہ نہیں۔واقفات ٹو کا جو ہے اور جب وہ بڑی ہو جاتی ہیں تو اُن کا جو لباس ہے وہ ایسا ہی ہونا چاہئے جیسا کہ مضمون میں بتایا گیا ہے۔حیا ہونی چاہئے اور جب حیا ہوگی تو آئندہ پر دے کا احساس بھی ہوگا۔“ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: پھر اس بچی سے جو ملاقات کے لئے آئی تھی، میں نے یہ بھی پوچھا تھا کہ تم سر پر دوپٹہ یا چادر لیتی ہو یا نہیں۔سکارف باندھتی ہو یا نہیں۔وہ ایک بار یک سی چھٹی یا سکارف جسے کہتے ہیں، وہی اُس کے سر پر ہوتا تھا، اس کے علاوہ کچھ نہیں۔لیکن بہر حال اُس نے وعدہ کیا کہ آئندہ میں کروں گی اور اس کے بعد سنا ہے کہ وہ کرتی ہے۔تو یہ کرنے کا احساس جب تک واقفات کو میں پیدا نہیں ہوگا، بڑے بڑے دعوے اور نظمیں پڑھنا کہ ہم یہ کر دیں گے اور وہ کر دیں گے، اس کا 66 کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔“ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا : بھی یہاں ناروے میں ملاقاتیں ہورہی ہیں۔ان میں میں دیکھ رہا ہوں کہ بعض عورتیں ملنے آتی ہیں مجھے لگتا ہے کہ بڑے عرصے کے بعد نقاب ان کا باہر نکلا ہے۔چھ سال قبل 2005 ء میں یہاں ملاقاتیں ہوئی تھیں تو ملاقات کے لئے چھ سال کے بعد یہ نقاب باہر نہیں نکلنا چاہئے بلکہ روز نکلنا چاہئے اور اس کے نمونے واقفات تو نے ہی قائم کرنے ہیں۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ: 178