پردہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 159 of 222

پردہ — Page 159

ہوئی تو وہ کپڑا اتر گیا۔اس کے بعد وہاں لڑائی شروع ہوگئی۔بلکہ قتل بھی ہو گیا۔تو پھر پر دے کے بارہ میں حکم ہوا کہ مسلمان عورت اپنی sanctity اور chastity کی حفاظت کرے پس سب سے بہتر یہ ہے کہ تمہارے اور دوسرے لڑکوں کے درمیان ایک فاصلہ ہونا چاہئے۔دوسرے قرآن کریم میں جہاں حکم آیا ہے کہ کرو، وہاں پہلے مردوں کو حکم ہے کہ تم اپنی نظریں نیچی رکھو اور عورتوں کو گھور گھور کر نہ دیکھا کرو۔اس کے بعد عورتوں کو حکم آیا کہ تم بھی اپنی نظریں نیچی رکھو اور نہ دیکھو لیکن مردوں کا پھر بھی اعتبار نہیں اس لئے اپنے آپ کو ڈھانپ کر رکھو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ اگر تم مجھے یہ گارنٹی دلوا دو کہ مرد جو ہیں اُن کے دماغ اور ذہن بالکل پاک ہو گئے ہیں تو میں کہوں گا کہ اتنی سختی پر دے میں نہ کرو لیکن نہیں ہوا۔گوہر مرد ایسا نہیں ہوتا لیکن بہت سے لوگ اس طرح کے ہوتے ہیں کہ جب سوسائٹی میں majority یا ایک خاص تعداد ایسی ہوجس سے نقص پیدا ہوتے ہوں تو بہتر ہے کہ اس سے بچنے کے سامان کئے جائیں تو اس لئے ہونا ضروری ہے تا کہ آزادانہ تعلقات قائم نہ ہوں۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مزید فرمایا: ہر مذہب میں پردے کا کہا گیا ہے۔پرانے زمانے میں عیسائیوں میں جو اچھے خاندان تھے ان میں پردے ہوتے تھے۔ان کے پرانے لباس دیکھ لو، لمبی maxi ہوتی تھیں اور بازو کلائیوں تک ہوتے تھے اور سر کے اوپر سکارف ہوتا تھا۔بائبل میں تو یہ ہے کہ کسی عورت کا سر نظر آجائے تو اس کے بال ہی کاٹ دو، منڈوا دو، اس طرح کی سختیاں ہیں جبکہ اسلام نے تو اس طرح کی سختیاں نہیں کیں۔لیکن اسلام نے عورت کی حیا کو بہر حال قائم رکھا ہوا ہے اور حیا کا تصور ہر جگہ ہے اور پرده 159