قیام پاکستان کا روحانی پس منظر — Page 33
۳۳ مالدار ملک نہیں ہے ایک غریب ملک ہے۔دیہ تک ایک غیر حکومت کی حفاظت میں امن اور سکون سے رہنے کے عادی ہو چکے ہو۔سو تمہیں اپنے اخلاق اور کردار بدلنے ہوں گے۔تمہیں اپنے ملک کی عزت اور ساکھ دنیا میں قائم کرنی ہو گی۔تمہیں اپنے ملک کو دنیا سے روشناس کرانا ہوگا۔ملکوں کی عزت کو قائم رکھنا بھی ایک بڑاؤ شوار کام ہے لیکن ان کی عزت کو بنانا اس سے بھی زیادہ دشوار کام ہے اور یہی دشوا کام تمہارے ذمہ ڈالا گیا ہے۔تم ایک نئے ملک کی بود ہو تمہاری ذمہ داریاں پرانے ملکوں کی نئی نسلوں سے بہت زیادہ ہیں۔انہیں ایک بنی ہوئی چیز ملتی ہے ، انہیں آباء کی سنتیں یا روائتیں وراثت میں ملتی ہیں مگر تمہارا یہ حال نہیں ہے تم نے ملک بھی بناتا ہے اور تم نے نئی روائتیں بھی قائم کرنی ہیں، ایسی روائتیں جن پر عزت اور کامیابی کے ساتھ آنے والی بہت سی نسلیں کام کرتی چلی جائیں اور ان روائتوں کی رہنمائی میں اپنے مستقبل کو شاندار بناتی چلی جائیں۔پس دوسرے قدیمی ملکوں کے لوگ ایک اولاد ہیں مگر تم ان کے مقابلے پر ایک باپ کی حیثیت رکھتے ہو۔وہ اپنے کامون میں اپنے باپ دادوں کو دیکھتے ہیں تم نے اپنے کاموں میں آئندہ نسلوں کو مد نظر رکھنا ہوگا۔جو بنیاد تم قائم کرو گے