بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 88
KP ۱۷۲ الصَّلاتِ أَن لَهُمْ أَجْرًا حَسَنًا: ب: فَاقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ الْقَيمِ مِن قبْلِ أَن يَأْتِي يَوْمَ لَا مَرَدَّ لَهُ مِنَ الله يَوْمَئِن تَقَدَّعُونَ (الروم:۳۳) ترجمہ: (الف) سب تعریف اللہ کا حق ہے جس نے اپنے بندے پر کتاب (قرآن مبید) نازل کی ہے۔اور اس کتاب ہیں کہ وہ قسم کی کچی نہیں رہنے دی۔اس کتاب کو ہمیشہ رہنے والی اور کبھی منسوخ نہ ہونے والی کتاب بنایا۔تادہ اس شدید جنگ اور عذاب سے ڈرائے جو اللہ کی طرف سے آنیوالا ہے اور ان مومنوں کو بشارت دے جو نیک اعمال بجالاتے ہیں کہ ان کے لئے بہترین اجر مقدر ہے۔(ب) تو اپنی ساری توجہ اس زہ منسوخ ہونے والے دین کے لئے صرف کرے۔اس سے پیشتر کہ اللہ کی طرف سے وہ عذاب کا دن آجائے۔جو رو نہ کیا جاسکے گا۔اور لوگ اس روز پراگندہ ہوں گے۔معزز سامعین ! قرآن کریم کی ان میں سے زیادہ آیات سے روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ قرآن مجید کا دعوی ہے کہ وہ کامل کتاب ہے، وہ ہمیشہ کے لئے محفوظ کتاب ہے، اس میں تمام انسانی ضروریات کا علاج بیان کر دیا گیا ہے۔وہ رہتی دنیا تک انسانوں کے روحانی، تمدنی، اخلاقی اور اقتصادی مطالبات کو پورا کرنے والا ہے۔پس ثابت ہے کہ قرآن کریم ایک دائمی شریعیت ہے ، اب قرآن کریم کے دائمی شریعت ہونے پر منکر اسلام تو اعتراض کر سکتا ہے۔کیونکہ وہ قرآن کریم کو نہیں مانتا۔مگر تعجب ہے کہ بھائی قرآن پاک کو کلام خداوندی انے کے بعد اس کے دعوئی پر اعتراض کر رہے ہیں۔معزز حضرات! آپ نے ملاحظہ فرمالیا کہ قرآن مجید کے بارے میں کتب سابقہ تورات و انجیل میں جو پیش گوئیاں ہیں۔ان میں بھی اسے دائمی شریعیت قرار دیا گیا ہے پھر آپ نے ملاحظہ فرمالیا کہ قرآن مجید کی آیات مریکہ میں اس کے کامل محفوظ ، جامع اور دائمی شریعت ہونے کا واضح اور کھلے طور پر اعلان کیا گیا ہے۔قرآن مجید چونکہ ساری دنیا کے لئے ہے اور اس کارخانہ عالم کے آخری در تک کے لئے شریعت ہے۔جس طرح اللہ تعالے کی زمین اور اس کے آسمانی اجرام کے ذریعہ ساری فسیل انتصافی کی خوراک کیا ہو رہی ہے۔انسانی نسل کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ ذرائع پیداوار میں بھی اضافہ اور ترقی ہو رہی ہے۔نئی نئی ایجادات ہو رہی ہیں، اسی طرح اللہ تعالے کی کامل کتاب میں سے بھی اس کے فضل۔