بہائیت کے متعلق پانچ مقالے

by Other Authors

Page 75 of 130

بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 75

۱۴۷ ۱۴۶ تو تم کو تمام سچائی کی راہ دکھائے گا۔اسلئے کہ وہ اپنی طرف سے نکلے گا لیکن جو کچھ سنے گا وہی کہے گا اور تمہیں آئندہ کی قریب دیگا۔(یوحنا ) اسی لئے قرآن مجید میں اللہ تعالے نے اعلان فرما دیا۔الیوم اکملت لکم دینکم (المائد) کہ آج اس قرآن مجیب کے ذریعہ میں نے تمہارے سامنے تمام سچائی کی راہ پیش کر دی ہے۔(۷) حضرت مسیح نے انگوری باغ کی مشہور میل کا ذکر کرتے ہوئے پیشنگوئی کی ہے کہ :۔جب باغ کا مالک آئے گا تو ان باغبانوں کے ساتھ کیا کرے گا؟ انہوں نے اس سے کہا ان برے آدمیوں کو تیری تشریح ہلاک کرے گا اور باغ کا ٹھیکہ اور باغبانوں کو دیگا جو موسم پر اس کو پھل دیں یسوع نے ان سے کہا۔کیا تم نے کتاب مقدس ہیں کبھی نہیں پڑھا کہ میں تھر کو معماروں نے رد کیا وہی کونے کے کرنے کا پتھر ہو گیا۔یہ خدا وند کی طرف سے ہوا اور ہماری نظر میں طبیب ہے اسلئے میں تم سے کہتا ہوں کہ خدا کی بادشاہت ت تم سے لے لی جائے گی اور اس قوم کو جو اس کے پھلی لائے دے ولی جائے گی اور جو اس پتھر پر گرے گا اسکے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیے گے مگر تیں پردہ گرے گا اُسے میں ڈانے لگانا رمتی و اسم ) اس پیش گوئی میں بنی اسرائیل سے آسمانی حکومت چھین کریتی اسمعیل کو دیے جانے کا ذکر ہے اس میں آنے والے نبی اور اس کی لائی ہوئی شریعیت کو کونے کا پتھر قرار دیا ہے۔میله مند یوحنا میں آئندہ ہونے والے واقعات کے سلسم میں خیر دی گئی ہے کہ :۔تخت پر بیٹھا تھا میں نے اس کے دینے ہاتھ میں ایک کتاب دیکھی جو اندر سے اور باہر سے لکھی ہوئی تھی اور آسے سات فری لگا کر بند کیا گیا تھا۔پھر میں نے ایک زورا در فرشتے کو بند آواز سے یہ منادی کرتے دیکھا کہ کون اس کتاب کے کھولنے اور اس کی ترین توڑنے کے لائق ہے یہ ا شفر یومنا پر پیش گوئی بھی نہایت واضح ہے۔اس پر نظر کرنے سے عیاں ہے کہ اس کا مصداق صرف قرآن کریم ہے۔اور سات کریں سورۂ فاتحہ کی سات آیات ہیں۔جو ام الکتاب کی حیثیت رکھتی ہے۔ہیں میں قرآن مجید کے سارے مضامین جمع کر دیے گئے ہیں۔پھر قرآن مجید ہمارہ کتاب ہے جس کے با رستے ہیں فرشتوں نے منادی کی ہے۔قل لئن اجتمعت الانس والبر على ان يأتوا بمثل هذا القرأن لا يأتون بمثله ولو كان بعضهم لبعض ظهيراه ربنی اسرائیل : ۱۸) کہ یہ وہ بے نظیر و بے مثال کتاب ہے جوں کی مانند کوئی شخص نہیں بنا سکتا (9) پوھنا ہوتی اسی مکاشفہ میں فرماتے ہیں : -