بہائیت کے متعلق پانچ مقالے

by Other Authors

Page 74 of 130

بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 74

۱۳۵ (۳) نیسعیاہ نبی کی معرفت اللہ تعالی نے فرمایا کہ تم انگلی چیزوں کو یاد نہ کرو اور قدیم باتوں کو سوچتے نہ رہوں دیکھو میں ایک نئی چیز کروں گا۔اب وہ ظاہر ہوگی۔کیا تم اس ہے ملاحظہ نہ کرو گے۔ہاں میں بیابان میں ایک راہ اور مسحرا میں بناؤں گا۔ہداشت کے بھائم ، گیوڈ اور شتر مرغ میری تنظیم کہ میں بیابان میں پانی اور صحرا میں ندیاں موجود کروں گا کہ وہ میجہ لوگوں کے، میرے برگزیدوں کے پینے کے لئے ہو ئیں میں نے ان لوگوں کو اپنے لئے بنایا۔وہ میری ستائش کریں گے یہ المياه (۴) پھر فرمایا :- اوند کے لئے ایک نیا گیت گاڈ اسے تم جو سمندر پرگہ رائے ہواور تم جو اس میں بہتے ہو۔اسے بھری ممالک اور ان کے باشند و امیر مین پر ھرتا میراسی کی ستائش کرده بیابان اور نا کیا کیا بستیاں قیدار کے آباد و رعایت اپنی آواز بلند کریں گے۔صلح کے بہنے والے ایک گیت گائیں گے پہاڑوں کی چوٹیوں پر سے للکاریں گئے وہ خدا وند کا جلال ظاہر کر یں گے اور بجری ممالک میں اسکی شنا خوانی کرینگے۔خداوند ایک بہادر کی مانند نکلے گا۔وہ جنگی مرد کی مانند اپنی غیرت کو اسکا ہے گا۔وہ چلا اٹھے گا۔ہاں وہ جنگ کے لئے بلا ئیگا۔وہ اپنے دشمنوں پر بہادری کو نیگیا ہے۔(۵) اسی ضمن میں خبر دی کہ : وہ کسی کو بانٹ سکھائے گا کسی کو وعظ کر کے سمجھائے گا ؟ ان کو جن کا دور ہ چھڑایا گیا۔جو چھاتیوں سے جدا کئے گئے کیونکہ حکم پر حکم حکم پر حکم، قانون پر قانون قانون پر قانون ہوتا جاتا تھوڑا یہاں تھوڑا وہاں۔ہاں وہ دشی کے سے ہونٹوں اور اجنبی زبان سے اس گروہ کے ساتھ باتیں کہ سے لگا ہے ریعیاه VA ان تینوں عمارتوں پر سرسری نظر ڈالنے سے ہی کھل جاتا ہے کہ خدا وند تعالیٰ نے ایک نئی شریعت، ایک نام کیست اور نئے قانونوں والی کتاب کی خبر دی ہے یہ نئی شریعت عالمگیر ہے۔تمام دنیا کے لئے ہو گی۔مسلح (مدینہ کی پہاڑی) کے باشندے پہلے یہ گیت گائیں گے۔اذانیں دینگے، لکھنے پرندوں تبلیغ کریں گے ، جنگوں تک نوبت آئے گی، آخر ما مور اپنے دشمنوں پر غالب آئے گا۔قرآن مجید کا نزول تدریجا ہوگا۔غیر عبرانی زبان میں ہو گا۔اور اس کا نزول ہے تھوڑا یہاں تھوڑا وہاں سے مکی اور ہوئی ہو گا۔قرآن مجید کے آنے سے صحرا میں آپ حیات کی ندیاں بہہ پڑیں گی اور پیار کیا دنیا میں خدا کی ستائش قائم ہو جائے گی۔(4) حضرت مسیح فرماتے ہیں: مجھے تم سے اور بھی بہت سی باتیں کتنی ہیں مگراب تم ان کی برداشت نہیں کر سکتے۔لیکن جب وہ یعنی سچائی کار و ج آئے گا