بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 71
۱۳۹ ۱۳۸ محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم۔سو تم کوشش کر دو کہ سچی محبت اس خیاہ جلال کے نہی کے ساتھ رکھو اور اس کے غیر کو اس پر کسی فوع کی بڑائی ست دو تا آسمان پر تم نجات یافتہ لکھے جاؤ۔اور یاد رکھو کہ نجات وہ چیز نہیں جو مرنے کے بعد ظاہر ہوگی بلکہ حقیقی نجات وہ ہے کہ اسی دنیا میں اپنی روشنی دکھلاتی ہے۔نجات یافتہ کون ہے ؟ وہ جو یقین رکھتا ہے جو خدا سچ ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس میں اور تمام مخلوق میں درمیانی شفیع ہے اور آسمان کے نیچے نہ اس کے ہم مرتبہ کوئی اور رسول ہے اور نہ قرآن کے ہم رتبہ کوئی اور کتاب ہے۔اور کسی کے لئے خدا نے نہ چاہا کہ وہ ہمیشہ زندہ رہے مگر یہ برگزیدہ نبی ہمیشہ کے لئے زندہ ہے۔دکشتی نوح متا) پس احمدیت کے عقائد کی چٹان ، قرآن مجید کا دائی شریعیت ہوتا ہے۔اور بہائیت کی بنیاد یہ ہے کہ نعوذ باللہ قرآن نبید ایک محدود و زمانہ هزار بارہ سو سال کے لئے ، تھا اور اب قرآن تبید منسوخ ہو چکا ہے۔معزز حاضرین ! ہمارے اس بیان سے آپ آج کے مضمون کی اہمیت کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔ممکن کہ مسلمانوں کے کسی دوسرے فرقے کے علماء اپنی کم نظری کے باعث قرآن مجید کی کچھ آیات کو منسوخ ٹھہراتے ہوں اگرچہ آجکل احمد یہ تحریک کے زیر اثر قریباً سبھی سمجھدار مسلمان ہی عقیدہ اختیار کر رہے ہیں کہ فرقان مجید میں کوئی منسوخ آیت نہیں ہے تاہم جماعت احمدیہ تو ہر حال یہ اعتقاد رکھتی ہے کہ : خدا اس شخص کا دشمن ہے جو قرآن شریف کو منسوخ کی طرح قرار دیتا ہے اور محمدی شریعت کے برخلاف چلتا ہے اور اپنی شریعت چلانا چاہتا ہے۔چشمہ معرفت ۳۳۲) اندرین صورت یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ بہائیت اور احمدیت دو متضاد تحریکیں ہیں۔ان میں آگ اور پانی یا زھر اور تریاق کی نسبت ہے۔اب ہم بفضلہ اپنے اس دعوئی کو ثابت کرتے ہیں کہ قرآن مجید دائمی شریعت ہے۔سو یا د رکھنا چاہیئے کہ قرآن مجید دنیا میں پہلی کتاب یا پہلی شریعت نہیں ہے۔اور نہ ہی ہمارے سید و مولے حضرت محمد مصطفے صل اللہ علیہ وسلم دنیا میں پہلے رسول ظاہر ہوتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے قریب ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر گزر چکے ہیں اور عشر ان سے پہلے متعدد کتابیں اور صحیفے اُتر چکے ہیں۔نسل انسانی اپنے آغاز سے ہی الہی ہدایت اور آسمانی شریعت کی محتاج رہی ہے قل انسانی نے بھی ارتقائی منازل طے کی ہیں اور انہی شریعت بھی مختلف ادوار اور طبقات میں سے گزر کر اپنے کمال کو پہنچی ہے۔جس طرح انبیاء سلف حضرت خاتم النبيين مصلی اللہ علیہ وسلم کی جلالت شان اور آپ کے بلند ترین مرتبہ کے پیش نظر اپنی اپنی امتوں کو آپ کی آمد کی بشارت