بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 68
۱۳۳ ۱۳۲ بنا۔رب کو ایک راہ پر نگاہ سے ہم کو بھی وجہ اور خوشی میں ا پر ایک کر چمکنے والا ستارہ بنا دے تاکہ ان کے نور سے یہ سارا عالم منور ہوا ہے بیا، اللہ آسمان سے قوت نے نے اور آسمانی العالم فریا ! خدائی تائید دکھاتا کہ کے سب تیری خدمت میں مشغول ہوجائیں تو نرمی زبانے والا اور مہربان او فضیل والا اور احسان والا ہے۔" ان تمام بیانات سے انظر من الشمس ہے کہ بہاء اللہ نے الوہیت کا دعوی کیا ہے اور بہائیوں نے ان کو بطور الہ معبود تسلیم کیا ہے۔یہاں پر کسی مجازی اور استعارا اطلاق کا سوال ہی نہیں ہے۔یہ تو صاف اور واضح طور پر انا اور معبود ماننے کی صورت ہے۔علم کو شیخ رشید رضا ایڈیٹر رسالہ المنار مصر نے بھی اثر مقام حوالہ جات کا ملا حظہ کرنے کے بعد اقرار کیا ہے کہ در البهائية هم أخر طوائف الباطنية يعدون البهاء عبادة حقيقية ويزيتون بالوقية۔پوسته ، ولهم شريعة خاصة بهم: المنار جبل ٣٠ تم ١ - ٢٠ شوال ١٣٣ جس طر یہ یسائی حضرت سچ کو ان اللہ مانتے ہیں حضرت شیخ کی عبادت کرتے ہیں ، اُن سے دعائیں مانگتے ہیں بعینہ اسی طرح بہائی بہاء اللہ کو رب مانتے ہیں۔اس سے دعائیں مانگتے ہیں ، اس کی عبادت کرتے ہیں، اس کی قبر کو سجدہ کرتے ہیں اور اس کو حاضر ناظر یقین کرتے ہیں۔اگر یہ اتو میت کا دسونی ہیں اور اگر یہ حمود ماننے کی صورت نہیں تو ہمیں بتایا جائے۔کر رہا ہوں اور عیسائیوں کے عقیدہ اور عمل میں کیا فرق ہے؟ نیز بتایا جائے کہ اگر یہ نوٹی الوہیت نہیں ہے تو اگر کوئی انسان ہو کر رب ہونے کا دھونی کرنا چاہئے وہ کس طرح کرے گا ؟ بعض وفعہ ہائی لوگ بہاء اللہ کی ایسی عبارتیں پیش کرتے ہیں جن میں اس نے اپنے انسان ہونے کا اعتراف کیا ہے۔مگر ظاہر ہے کہ آج تک کسی نے بھی اپنے انسان ہونے کا انکار کر کے الوہیت کا دعوئی نہیں کیا۔فرعون مصر نے بھی ایسا نہ کیا تھا اور حضرت شیخ کے متعلق بھی عیسائی ایسا نہیں کرتے جبکہ وہ ان کو کامل انسان اور کامل خدا مانتے ہیں۔بعینہ اسی طرح بھائی لوگ بھی بہاء اللہ کو ایک طرف کامل انسان کہتے ہیں اور دوسری طرف اسے کامل خدا مان کر اس کی عبادت کرتے ہیں۔پس بہار اللہ کا دعونی الویت ثابت ہے اور قرآن مجید کے دو سے کسی شخص کا مدعی الوہیت ہونا ہی اس کے گھوٹا اور کذاب ہونے کی روشن ترین دلیل ہے اللہ تعالٰی فرماتا ہے :- ما كان البَشَرِ أَن تُؤْتِيهُ اللهُ الْكِتَب وَالْحُكوو النبوة ثمَّ يَقُولَ لِلنَّاسِ كُونُوا عِبَادَاتِي مِن دُونِ اللَّهِ وَلَكِن كُونُوا تَبَاتِ مَنَ بِمَا كُنتُمْ تُعَلَّمُونَ الكتب وبِمَا كُنتُمْ تَدْرُمُونَهُ وَلَا يَا مُرَكُمْ ان تَتَّخِذُوا الْمَلَئِكَةَ وَالشَّهِينَ أَرْبَابًا، أَيَا مُرُكُمْ بالكفر بعد إذ انتُم مُّسْلِمُونَ (آل عمران : ۷۹-)