بہائیت کے متعلق پانچ مقالے

by Other Authors

Page 62 of 130

بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 62

١٢١ گویا بہاء اللہ فضائی علم غیب کے مدعی تھے۔(۱۷) بہاء اللہ زندگی میں اپنے آپ کو قبیلہ نماز قرار دیتے ہیں اور مرنے کے بعد اپنی قبر کو قبلہ اور مسجود ٹھراتے ہیں۔لکھتے ہیں :- اذا اردتم الصلوة وتوا وجوهكم شطري الاقدس المقام المقدس و عند غروب شمس الحقيقة والتبيات المقر الذي قدرناه لكم الاقدس کہ میری زندگی میں مجھے اور میرے مرنے کے بعد میری قبر کو قبلہ بنانا یہ بھائی بھی عملاً اس قبر کو قبلہ ٹھہراتے ہیں۔لکھا ہے: قبل ما اهل بهادر و خنده میاد که است در مدینه نگاه که در وقت نماز خواندن باید رو بروند بمبار که بایستیم و قلباً متوجه بال قدم جل جلاله و ملکوت اینی باشیم دانست آن مقام کہ بہاء اللہ نے جن دو گھروں کے حج اور طواف کرنے کا کتاب اقدس میں بہائیوں کو حکم دیا ہوا ہے۔ان میں سے ایک تو وہ گھر ہے جو شیرانہ (ملکہ ایران میں علی محمد باب کا گھر ہے اور دوسرا یہ گھر جس میں ہارا اللہ بغداد میں رہتے تھے یہ پھر علاوہ ازیں یہ بات بھی یادرکھنے کے قابل ہے کہ بھائی لوگ قبر بہار کو سجدہ کرتے ہیں۔بہجہ الحمد ورفت ۲ میں بیان ہوا ہے کہ : زائرین زیارت و طواف و تقبیل و سجده علیه تقدیرهاش نموده و نماینده اندی کہ بہاء اللہ کے مقدس آستانہ پر زیارت کرنے والے لوگ سجدہ کرتے اور بوسہ دیتے اور طواف کرتے تھے اور اب بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔میں خود اپنی آنکھوں سے نتیجہ میں دیکھ آیا ہوں کہ بھائی لوگ بہاء اللہ مقدری که در کتاب اقدس از قلم اعلی نازل شده به رموس الديانة - درس عشا کی قبر کو سجدہ کرتے ہیں۔جناب عبد البہاء نئے روضہ مبارکہ کو ہی مسجود قرار دیا ہے۔چنانچہ مطلب یہ کہ بہائیوں کا قبل یہ والد کی قبر ہے جو نگاہ میں قرار دی گئی ہے۔جناب عبد البہاء نے سفیر اور پ سے واپس اگر در محرم کی صبح کو جو کام کیا تھا، پھر یہ بھی یاد رہے کہ بہائیوں کے تو طواف کی جگہ بات اور بہار کے گھر ہیں کتاب الکواکب الدریہ فی مآثر الہیما ئیہ کے منہ میں لکھا ہے :۔محلی طلاق و روچ اہل بہاری کے بہت نقطه اولی در شیراز است و ثانی این بیت جمال ایسی که در بغداد است وہ یہ تھا:۔چنین مبین را بر تراب آستان مقدس سود نده با بیمار کابل پہاڑ پر گئے اور انہوں نے علی محمد باپ کی قبر پر جا کہ اپنا ماتھا رگڑاتے