بہائیت کے متعلق پانچ مقالے

by Other Authors

Page 61 of 130

بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 61

114 A والذي ينطق في السجن الاعظم الله لخالق الاشياء و موجد الاسماء قد حمل البلايا لاحياء العالم" مجموعه اقدس م ترجمہ : جو اس عظیم قید خانہ سے بول رہا ہے وہی اسب چیزوں کا خالق ہے اور سب کو وجود شیشے واللہ اس نے دنیا کو زندہ کرنے کی خاطر یہ بلائیں برداشت کی ہیں یہ (۱۳) بہاء اللہ اپنے آپ کو نبیوں اور رسولوں کا خالق قرار دیتے ہیں۔اپنے صاحب استقامت مریدوں کو اس قول کی تلقین کرتے ہیں:۔قال وصاحب الاستقامة الكبرى المؤمن بالبهاء ناقل، وقوله الحق لا يمنعه ذكر النبي عن الذي بقوله يخلق النبيين والمرسلين - مجموعه ص ۲۳) ترجمہ : میرے یعنی بہاء اللہ کے صاحب استقامت مومن نے کیا اور اس کا گھنا درست ہے کہ آنحضرت کا ذکر ہے اس جود زیادہ اللہ سے نہیں روک سکتا۔جس نے اپنے قول ملے کیوں اور رسولوں کو پیدا کیا ہے۔(۱۴) بہاء اللہ اپنے آپ کو ایفعل ما یشاء اور عصمت کیرئی کے مقام پر قرار دیتے ہیں جس میں کوئی شریک نہیں ذہنی ور رسول با تو خاتم النبیین اور نہ ملائکہ۔بہاء اللہ لکھتے ہیں: ليس لمطلع الامر شويك في العصمة الكبيرني انه لمظهر يفعل ما يشاء في ملكوت الانشاء قد خص الله هذا المقام لنفسه وما قدر لاحد نصيب من هذا الشان العظيم المنيع ترجمہ و محنت کرنی میں مطلع الا مریعنی بہاء اللہ کا کوئی شریک نہیں۔ہے، یہ کائنات میں یفعل ما یشاء کا منظر ہے۔اللہ تعالے نے یہ مقام صرف اپنے لئے مخصوص رکھا ہے اس بند اور ناقابل ارتقاء شان میں سے کسی کو کوئی حصہ نہیں ملاک و مجمو عہ اقدس منت (۱۵) جناب بہاء الله علم ماکان ومایکون کے مدعی تھے۔اقتدار میں میں جناب بہاء اللہ لکھتے ہیں: و نفسی هندی علم ما كان وما يكون کہ مجھے اپنی ذات کی قسم ہے کہ مجھے گزشتہ اور آئندہ سب کا علم ہے۔(14) قرآن مجید میںاللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا يَعْزُبُ عَنْ رَتِكَ مِنْ ثْقَالَ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ - سورة يونس : 41) کہ تیرے رب سے کوئی چیز مخفی نہیں ہے۔اسی سلسلہ میں بہاء اللہ لکھتے ہیں۔قد ظهر من لا يحزب عن علمه شي : ( اشراقات مثل) کہ وہ شخص ظاہر ہو گیا ہے کہ چین کے علم سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔